محمد نوید مرزا ۔۔۔ کار دنیا میں فرشتوں کی طرح ہوتا ہے

کار دنیا میں فرشتوں کی طرح ہوتا ہے ’’آدمی عشق میں بچوں کی طرح ہوتا ہے‘‘ اُس کے منزل کی طرف خود ہی قدم اُٹھتے ہیں جب کوئی شہر کے رستوں کی طرح ہوتا ہے جس کے لہجے سے محبت کی مہک آتی ہو گفتگو میں وہ گلابوں کی طرح ہو تا ہے کوئی آسیب مسلّط ہے گلی کوچوں میں دن نکلتا ہے تو راتوں کی طرح ہوتا ہے توڑ کر بھی وہ جڑا رہتا ہے اندر اپنے اب کہاں کوئی کھلونوں کی طرح ہوتا ہے جُھوم اُٹھتا ہے ذرا…

Read More

جمیل یوسف ۔۔۔ نہ دن خوش آتا ہے ، نے رات راس آتی ہے

نہ دن خوش آتا ہے ، نے رات راس آتی ہے کہاں یہ صورتِ حالات راس آتی ہے جو بات سُننے کا امکاں نظر نہیں آتا ہمارے دل کو وہی بات راس آتی ہے وہ جس سے اپنی ملاقات ہو نہیں سکتی ہمیں اُسی سے ملاقات راس آتی ہے جو اک جھلک سے یہ منظر بدل بھی سکتی ہے وہ ایک جانِ کرامات راس آتی ہے ترے جہانِ خرابی میں ، تیرے بندوں کو بس ایک شامِ خرابات راس آتی ہے میں جانتا ہوں ، خزاں فصلِ گل کا وقفہ…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ محمد انیس انصاری

شب کو راحت مِرے حضورؐ کی ہے یہ عنایت مِرے حضورؐ کی ہے کُو بہ کُو کہہ رہی ہے بادِ صبا یہ صباحت مِرے حضورؐ کی ہے پُھول جھڑتے ہیں اُنؐ کے ہونٹوں سے کیا فصاحت مِرے حضورؐ کی ہے آنکھ بس اُن کے خواب دیکھتی ہے یہ رفاقت مِرے حضورؐ کی ہے بے زُبانوں کی بات سُنتے ہیں کیا سماعت مِرے حضورؐ کی ہے جو یہودی کے حق میں فیصلہ دے وہ عدالت مِرے حضورؐ کی ہے پڑھنا چاہوں گا اپنی نعت، انیس کیا اجازت مِرے حضورؐ کی ہے

Read More

الیاس بابر اعوان … یار جو کچھ یہاں پہ چل رہا ہے

یار جو کچھ یہاں پہ چل رہا ہےسچ کہوں تو گماں پہ چل رہا ہے اِس قدر خُوب رو جوان ہے وہجو اُدھار اِس دُکاں پہ چل رہا ہے اصل میں مسئلے معاشی ہیںیوں تو جھگڑا زباں پہ چل رہا ہے اِتنا پڑھ لکھ کے میں یہ سمجھا ہُوںسارا سسٹم اذاں پہ چل رہا ہے عشق ہو ، شاعری ہو ، وحشت ہوکاروبار اب خزاں پہ چل رہا ہے وہ ملے تو اُسے بتانا مراکھوٹا سکہ یہاں پہ چل رہا ہے سب کے سب دفن ہو چکے ہیں لوگکیس ابھی…

Read More

حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ خالد کھوکھر

یہ رنگ و نور، مکین و مکاں تجھی سے ہیںعطا کے چشمے ہیں جتنے یہاں تجھی سے ہیں ہیں تیرے دم سے زمانوں میں رنگ یہ سارےمحبتیں بھی لہو میں رواں تجھی سے ہیں مری جبیں پہ ہے جتنی چمک سجود سے ہےعقیدتوں کے یہ سارے نشاں تجھی سے ہیں ترے وجود سے ہیں سلسلے جہانوں کےوہ تارے جن سے ہیں روشن زماں تجھی سے ہیں یہ نیلے گہرے سمندر، یہ جھیل یہ دریایہ آ بشار یہ آب ِرواں تجھی سے ہیں

Read More

کاشف مجید ۔۔۔ مجھے ہے جینے کا آزار سانس لیتا ہوں

مجھے ہے جینے کا آزار سانس لیتا ہوں کبھی کبھی تو لگاتار سانس کتا ہوں عجب نہیں اسی کوشش میں زندگی مل جائے میں ایسا کرتا ہوں اک بار سانس لیتا ہوں درختوں اور پرندوں کے ساتھ یاری ہے سو حمد کرتا ہوں ہموار سانس لیتا ہوں بہت دنوں سے نہ گریہ کیا نہ رقص کیا بہت دنوں سے میں بیکار سانس لیتا ہوں اندھیرا موت ہے اور موت بھی بھیانک موت چراغ کا ہوں طرف دار سانس لیتا ہوں

Read More

کامران ناشط … سرشاریاں بھی کھو گئیں اور بے خودی چلی گئی

سرشاریاں بھی کھو گئیں اور بے خودی چلی گئی اس زندگی کا کیا کریں، زندہ دلی چلی گئی تہذیبِ وقت نے مجھے یوں تو فعال کر دیا لیکن میں کیا کروں، مری آوارگی چلی گئی خلق ِ خدا میں بانٹنے سے بندشیں بھی کھل گئیں دریا دلی عطا ہوئی تو مفلسی چلی گئی جتنی تھیں خوش مزاجیاں ، صدقہ تھیں اک ملال کا اب کس طرح ہنسوں کہ وہ غم کی گھڑی چلی گئی یوں خود کو ہار ہار کے کیا جیتنے چلا تھا میں میں دشمنوں کا ہو گیا…

Read More

شاہد فرید … وقت انسانیت پہ بھاری ہے

وقت انسانیت پہ بھاری ہے عالمِ ہو ہے ، خوف طاری ہے دو قدم ہم کہ چل نہیں سکتے اور زمانے کی دوڑ جاری ہے آستینوں میں سانپ پلتے ہیں شہر میں ہر سو مارا ماری ہے نان و نفقہ کو ڈھونڈنے نکلیں کچھ ہماری بھی ذمہ داری ہے ٹوٹے پھوٹے خیال و خواب لیے جیسے تیسے ہی شب گزاری ہے اب کے بچنا محال ہے شاہد اب کے دشمن کا وار کاری ہے

Read More

علی اصغر عباس … نیامِ حرف میں شمشیر سے معانی رکھ

نیامِ حرف میں شمشیر سے معانی رکھ کمانِ شوق میں اک تیر سی کہانی رکھ نکل بھی خواب گزیدہ حصارِ نوم سے آنکھ نمودِ حسن کی یوں تو نہ پاسبانی رکھ پلٹ کے آئے گا فردا ، گذشتہ کی جانب نگار خانۂ امروز کی نشانی رکھ کسی خیال میں لا اُس کی بے خیالی کو کبھی دھیان میں اُس کی بھی بے دھیانی رکھ نزولِ عشق ، مصیبت ہی ناگہانی ہے یہ ناگہانی ، ہمیشہ ہی ناگہانی رکھ یہ زادِ راہِ محبت ہے، عشرتِ غم ہے میاں سنبھال کے یہ…

Read More