جاں نثار اختر ۔۔۔ اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں

اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیںکچھ شعر فقط اُن کو سنانے کے لیے ہیں اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر  درد مٹا دیںکچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیے ہیں سوچو تو بڑی چیز ہے تہذیب بدن کیورنہ یہ فقط آگ بجھانے کے لیے ہیں آنکھوں میں جو بھر لو گے تو کانٹوں سے چبھیں گےیہ خواب تو پلکوں پہ سجانے کے لیے ہیں دیکھوں ترے ہاتھوں کو تو لگتا ہے ترے ہاتھمندر میں فقط دیپ جلانے کے لیے ہیں یہ علم کا سودا، یہ رسالے، یہ…

Read More

سید فخر الدین بلے ۔۔۔ 6 ستمبر (ایک نظم 65 کی پاک بھارت جنگ پر )

6 ستمبر (ایک نظم 65 کی پاک بھارت جنگ پر ) ……………………….. چھ ستمبر کی سحر لائی تھی ظلمت کا پیام وحشت و حیوانیت کا بربریت کا پیام بھارتی سینا نے شب خوں مار کر لاہور پر اہل ِایماں کو دیا قربِ قیامت کا پیام دُھن پہ توپوں کی اہنسا کے بھجن گاتے ہوئے سوتے شہروں پر بموں کے پھول برساتے ہوئے رات کو پچھلے پہر “پربھات پھیری” کےلئے سورما! آئے لہو اشنان کرواتے ہوئے امتیازِ حق و باطل کو مٹانے کےلئے آٹھ صدیوں کا ہر اک قرضہ چکانے کےلئے…

Read More

طارق بٹ ۔۔۔ کوئی اس درجہ کامران نہ تھا

کوئی اس درجہ کامران نہ تھا ہم جہاں تھے وہ آسمان نہ تھا کہیں بے انت تھا نشان اپنا یہ زمان اور یہ مکان نہ تھا کوئی تھا، میں تھا یا کہ تو ہی تو کیا تھا جب کچھ بھی درمیان نہ تھا آپ اپنا بیاں ہے، ہر موجود سچ کسی لمحہ بے زبان نہ تھا تختۂ دار سا نہ تخت کوئی جس نے پایا، اسے گمان نہ تھا

Read More

لطیف ساحل… آباد تنہائی

آباد تنہائی ہمارے گھر کے پودوں کی گداز و نرم شاخوں پر پرندے گھر بناتے ہیں یہاں ان کو ہمارے  درمیاں رہ کر بھی اک تنہائی ملتی ہے ہمیں اک دوسروں کے گھونسلوں میں جھانکنے کی کیا ضرورت ہے در و بستِ گل و لالہ میں سب مصروف رہتے ہیں یہاں تنہائی بھی ہر شخص کو ہر چیز کو آرام دیتی ہے یہاں جب تک کوئی واپس نہیں آتا ہمارے سب کی تنہائی مکمل ہی نہیں ہوتی

Read More

لطیف ساحل … دل مرا دستِ ریزہ کار میں تھا

دل مرا دستِ ریزہ کار میں تھا جو کرے اس کے اختیار میں تھا میں نے بھی سر پہ خاک ڈالی تھی وہ بھی اڑتے ہوئے غبار میں تھا اک نئی صبح ڈھونڈ لائی مجھے میں ابھی رات کے حصار میں تھا مجھ کو بھی معجزے کی خواہش تھی وہ بھی ‘ہونے’ کے انتظار میں تھا تو ہی لایا شمار میں مجھ کو میں ہمیشہ سے بے شمار میں تھا وہ بظاہر تھی ایک تنہا بیل اک جہاں اس کے برگ و بار میں تھا

Read More