صہیب اکرام … خواب سے اور آئینے سے دور ہوں

خواب سے اور آئنے سے دور ہوں جیسے میں ہر مسئلے سے دور ہوں خوب دِکھتا ہے جہاں سے یہ سماں میں ذرا اِس زاویے سے دور ہوں بس یہ کچھ ہونے کا ڈر جاتا نہیں ویسے میں ہر واہمے سے دور ہوں آپ ہی کہیے جنوں کا کیا کریں میں تو اب اس مخمصے سے دور ہوں اے زمیں گردش سے فرصت  ہو تو دیکھ میں ترے اس دائرے سے دور ہوں آئیے، کار مشقت کیجیے میں بقا کے سلسلے سے دور ہوں خود سے باہر آ گیا ہوں…

Read More

مسعود منور ۔۔۔ جو ہُوا صاف صاف لکھا ہے

جو ہُوا صاف صاف لکھا ہے تجھ سے ہر اختلاف  لکھا ہے گو تلفظ نہ تھا درست اپنا پھر بھی ہر شین قاف لکھا ہے مجھ سے جو گفتگو میں چھوٹ گیا سارا لاف و گزاف لکھا ہے ففٹی ففٹی تھے تیرے میرے گناہ میں نے بھی ہاف ہاف لکھا ہے برفباری میں خوفِ سرما سے تجھ کو اپنا لحاف لکھا ہے کیس میں قتلِ عاشقاں کے تجھے میں نے وعدہ معاف لکھا ہے آڑے ترچھے خطوط میں مسعود زندگی کا گراف لکھا ہے

Read More

سعید راجہ

وہ کیا پُر نور آنکھیں تھیں وہ کیا پُر نور آنکھیں تھیں جنہیں میں خواب میں دیکھا دمک جتنی قمر میں ہے ستاروں کی چمک ساری نشہ جو مے میں ہوتا ہے جو وسعت ہے سمندر میں بہاروں کی دلآویزی یہ زرخیزی بھی موسم کی تصور کا مکمل پن لکھی جاتی ہیں جو نظمیں غزل کہتے ہیں شاعر جو مسیحا کی مسیحائی حقیقت میں فسانہ اور فسانوں میں حقیقت بھی اُنھی آنکھوں کا صدقہ ہے جنہیں میں خواب میں دیکھا

Read More

قمر رضا شہزاد ۔۔۔ زنداں میں روشنی کا وسیلہ بناتا  میں

زنداں میں روشنی کا وسیلہ بناتا  میں مٹی کرید کر کوئی رستہ بناتا میں کرتو لئے ہیں جمع یہاں ڈھیر سارے خواب اب اس سے بڑھ کے کتنا خزانہ  بناتا میں اینٹیں اٹھا اٹھا کے گنوائے ہیں اپنے ہاتھ بہتر تھا ان کو جوڑ کے کاسہ بناتا میں اب خود ہی سوچتا ہوں کہ کیکر کی شاخ سے یونہی قلم بنایا ہے نیزہ بناتا میں یوں تو دکھائی دیتے ہیں یہ سانس لیتے لوگ ان میں کسی کو واقعی ز ندہ بناتا میں

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ دشتِ غم میں کھلا پھول جذبات کا

دشتِ غم میں کھلا پھول جذبات کا کتنا سندر تھا رنگِ حنا ہات کا جس جگہ ہر خوشی غم کا عنواں بنے کون مہماں ہو ایسے محلات کا بھولی بسری ہوئی یاد کے بادلو مینہ نہ برسے گا اب پھر ملاقات کا بعدِ ترکِ تمنا بھی میلے رہے شہر سونا  ہوا کب خیالات کا زندگی کو نگل جائے گی تیرگی سر پہ سورج نہ آئے گا حالات کا ہجر کی زُلف بکھرے تو احمدکبھی ختم ہوتا نہیں سلسلہ رات کا

Read More

طارق بٹ … کوئی اس درجہ کامران نہ تھا

کوئی اس درجہ کامران نہ تھا ہم جہاں تھے وہ آسمان نہ تھا کہیں بے انت تھا نشان اپنا یہ زمان اور یہ مکان نہ تھا کوئی تھا، میں تھا یا کہ تو ہی تو کیا تھا جب کچھ بھی درمیان نہ تھا آپ اپنا بیاں ہے، ہر موجود سچ کسی لمحہ بے زبان نہ تھا تختۂ دار سا نہ تخت کوئی جس نے پایا، اسے گمان نہ تھا

Read More