آنکھ وہ جھلمل تاروں سی دور کے منظر زاروں سی مست بھی ہے ہشیار بھی وہ گرم نظر دل داروں سی کھنچی کمان بھویں ہیں کیا اڑتی کونج قطاروں سی بھید سجھاتی آنکھوں میں روک بھی ہے دیواروں سی سیر کریں، اور لوٹ آئیں پلک تلے، تھک ہاروں سی روپ کی نکھری نکھری دھوپ صبح صبیح بہاروں سی میم ملاحت چہرے کی نون نمک کہساروں سی اس کا روپ سروپ انوپ خوش طبعی گل زاروں سی ایک نگہ کوئی کیا دیکھے صورت صد نظّاروں سی
Read MoreMonth: 2022 اپریل
مظہر حسین سید
کاٹ کر دینا پڑا ہاتھ بھی زنجیر کے ساتھ قید سے ورنہ رہائی نہیں دیتا تھا جہاں
Read Moreڈاکٹر اشفاق احمد ورک
کہیں ریشم، کہیں اطلس، کہیں خوشبو رکھ دوں یہ تمنّا ہے تِری یاد کو ہر سُو رکھ دوں یہ تبسّم، یہ تکلّم، یہ نفاست، یہ ادا جی میں آتا ہے، تِرا نام مَیں اُردو رکھ دوں
Read Moreعقیل اختر … امتحان
امتحان مجھے اک امتحاں درپیش ہے اور میں پریشاں ہوں نہیں ایسا نہیں کہ میں نے سورج کو جھکا کر روشنی کے زاویے پابند کرنے ہیں نہیں ایسا نہیں کہ چاند تارے توڑنے کو اس فلک کے پار جاکر کہکشاں کو چھو کے آنا ہے نہیں ایسا نہیں کہ رستے دریا کے بدل کر اس زمیں کو اک سمندر اور دینا ہے نہ ہی ہستی کے مجھ کو پار جا کر معرفت کے راز پانے ہیں نہ مجھ کو اُس کے جلووں سے سیہ شب جگمگانی ہے نہ میں نے…
Read Moreعقیل اختر … مرنے والوں کے اشارے جو بتا کر گئے تھے
مرنے والوں کے اشارے جو بتا کر گئے تھے لفظ تاریخ کے پہلے ہی صدا کر گئے تھے اُس نے جو بام پہ آ جانے کی زحمت کی تھی ہم اناگیر بھی دیوار گرا کر گئے تھے زیرِلب جلتے ہوئے شکوے تھے کتنے لیکن روبرو یار کے آواز بجھا کر گئے تھے ہم کو معلوم تھا کہ جنگ یہی آخری ہے وحشتِ رخت سے دامن کو چھڑا کر گئے تھے ہم پہ تھی سہل ہوئی دار و رسن کی مشکل اسمِ منصور کا تعویذ کرا کر گئے تھے
Read Moreعقیل اختر
ہم نے اک درجۂ حیرت میں تجھے پایا تھا اور اک درجۂ حیرت میں گنوا بیٹھے ہیں
Read Moreنعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم … عقیل اختر
نعمتِ دنیا ہے پائی ہم نے جن کے نام پر بات ٹھہری ہے سرِ کوثر بھی ان کے جام پر کچھ منور اور بھی پاتا ہوں اپنے دل کو میں لگ گیا ہوں جب سے نعتِ مصطفیٰ کے کام پر شام ٹھنڈی چاندنی اور صبحِ طیبہ پُرجمال میں قصیدہ صبحِ طیبہ پر لکھوں یا شام پر یادِ طیبہ عاشقوں کو اس قدر مرغوب ہے ٹوٹ کر گرتی مگس ہے جیسے میٹھے آم پر فرقتِ طیبہ میں گریہ سے اِسے فرصت نہیں آنکھ میری روئے کیوں دنیا ترے آلام پر
Read Moreقابل اجمیری
اک جھومتے بادل نے چپکے سے کہا قابلؔ ہنگامِ گل آیا ہے، ساقی نے بلایا ہے
Read Moreقابل اجمیری
نہیں اب تیرے ملنے کا گماں بھی قیامت ناگہاں ہو جائے گی کیا
Read Moreریاض خیر آبادی
ایک بازار حسینوں کا لگا رہتا تھا ہائے وہ دور کہ گاہک تھا زمانہ دل کا
Read More