میں جب کسی چراغ کی لو سے لپٹ گیا آئینہ اپنی آنکھ کے اندر سمٹ گیا پیدا ہوئی عروج سے صورت زوال کی سورج جواں ہوا تو مراسایہ گھٹ گیا آیا ہوں خاک چھان کے میں دشتِ نجد کی یہ کام میرے ہاتھ سے کیسے نمٹ گیا کیا ختم ہو گئی گُلِ موعود کی کشش کیا میری طرح شہر بھی ٹکڑوں میں بٹ گیا آئی ہوا تو محو ہوئے رنگ باغ کے مٹّی اُڑی تو گرد میں ہر پھول اٹ گیا سچ بولنے کا کوئی ارادہ نہ تھا مگر جب…
Read MoreDay: نومبر 23، 2022
ثمینہ سیّد ۔۔۔ ہماری اک کہانی کھو گئی ہے
ہماری اک کہانی کھو گئی ہے تھی جس میں زندگانی کھو گئی ہے سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہیں کیا یوں لفظوں سے روانی کھو گئی ہے میں واپس عمر کی دلدل میں اتروں؟؟ وہیں میری جوانی کھو گئی ہے جفائیں عام ہوتی جا رہی ہیں وفا کی حکمرانی کھو گئی ہے نیا تو دسترس میں کچھ نہ آیا انا تھی خاندانی، کھو گئی ہے جسے کہتے تھے اخلاص و مروت وہ آبا کی نشانی کھو گئی ہے ہے اب تو بدگمانی ہی مقدر جو تھی وہ خوش گمانی کھو…
Read Moreاعجاز روشن ۔۔۔ ہیں ایسے لوگ جو دل میں دعا نہیں رکھتے
ہیں ایسے لوگ جو دل میں دعا نہیں رکھتے وہ اپنا ظاہر و باطن ہرا نہیں رکھتے ہو عشق بازی کسی سے کہ ہو سخن سازی ہم اپنی سانس کہیں بھی پُھلا نہیں رکھتے یہ ٹھیک ہے کہ تمھیں غم اثر نہیں کرتے میں کیسے مان لوں کہ دل بھرا نہیں رکھتے جو اہلِ ظرف ہوں بڑھتے چلے ہی جاتے ہیں سفر کی دھول سروں پر اُٹھا نہیں رکھتے اُنھیں ہے زعم بُہت مال و زر وہ رکھتے ہیں مجھے یقیں کہ وہ کوئی خُدا نہیں رکھتے اُلجھ نہ پڑنا…
Read Moreخالد احمد
خالد وہ تھکن تھی کہ تہِ سایۂ مژگاں دیوارِ خمیدہ کی طرح بیٹھ گیا میں
Read Moreخالد احمد
وہ مجھ کو چھو کے گزرتا چلا گیا خالد مہک رہا ہے جو مجھ میں ، کہیں یہ میں تو نہیں
Read Moreمظفر حنفی
بجھتے بجھتے بھی ظالم نے اپنا سر جھکنے نہ دیا پھول گئی ہے سانس ہوا کی ایک چراغ بجھانے میں
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ سیلابوں کو شہ دینے میں ، طوفاں کو اکسانے میں
سیلابوں کو شہ دینے میں ، طوفاں کو اکسانے میں کتنے ہاتھوں کی سازش ہے اک دیوار گرانے میں تو نے بہتیرا سمجھایا، موٹی کھال ، گِرَہ میں مال اے دُنیا، کیسے آ جاتے ہم تیرے بہکانے میں فن کو مہکائے رکھتے ہیں زخمی دل کے تازہ پھول ٹوٹی تختی کام آتی ہے نیّا پار لگانے میں تتلی جیسے رنگ بکھیرو گھایل ہو کر کانٹوں سے مکڑی جیسے کیا الجھتے ہو غم کے تانے بانے میں بیزاری کے ہاتھ نہ مرنا، سو حیلے ہیں جینے کے پیارے ، سر میں…
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔۔ منزل سے کٹ کے دشت کو رَستا نکل گیا
منزل سے کٹ کے دشت کو رَستا نکل گیا لگتا ہے جیسے پاؤں سے کانٹا نکل گیا سائے مچل رہے ہیں چراغوں کی گود میں سمجھے تھے ہم کہ گھر سے اندھیرا نکل گیا خود ہی جمالیات میں کمزور رہ گئے یا تتلیوں کا رنگ بھی کچّا نکل گیا وا حسرتا کہ سانس کی مہلت نہیں مجھے پھر سَر سَرا کے عیش کا جھونکا نکل گیا ہونے لگا ہے ماں کی دعا میں غلط اثر بیٹی تو گھر میں بیٹھی ہے، بیٹا نکل گیا تم رخ بدل رہے تھے زمانے…
Read More