راج موہن گاندھی ۔۔۔ سر سید احمد خاں کی زندگی کے چند نمایاں پہلو

سرسیداحمدخاں کو برصغیر میں مسلم علیحدگی پسندی کا بانی قرار دے کر کوئی انھیں اچھا کہتا ہے اور کوئی برا۔ انھیں اسلام کی تجدید اورنئی تعبیر و تشریح پیش کرنے والے کی حیثیت سے کبھی ہدف ملامت بنایاجاتا ہے تو کبھی خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔تقریباً ایک صدی گزرجانے کے بعد بھی ان کا نام مع القاب و آداب (سرسید) پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے۔ سیداحمدخاں کے والد میرمتقی نے گوشہ نشینی کی زندگی اختیارکرلی تھی۔ سیداحمد کی ساخت و پرداخت اور تعلیم و تربیت ان…

Read More

ڈاکٹر غلام شبیر رانا ۔۔۔ ملا وجہی : دکن کا یگانۂ روزگار ادیب

دکن ( جنوبی ہند ) سے تعلق رکھنے والا اُردو ، فارسی ،عربی اور دکنی زبان کا یگانہ ٔ روزگار تخلیق کار ملا وجہی ( اسداﷲ ) اپنے عہد کا پُرعزم تخلیق کار تھا۔ اُس کے آبا و اجداد کا تعلق تو خراسان سے تھا مگر وجہی نے دکن میں جنم لیا ۔ اس نے دکنی اور فارسی زبان میں اپنی خدادا صلاحیتوں کا لو ہا منوایا اور دکنی زبان کے ادب میں وہی مقام حاصل کیا جو اُردو زبان کے کلاسیکی ادب میں مرزا اسداﷲ خان غالبؔ کو نصیب…

Read More

پروفیسر رحمت یوسف زئی …. شعر شور انگیز : مطالعۂ میر کا ایک سنگ میل 

شمس الرحمن فاروقی اُردو کے ان گنے چنے نقادوں میں شامل ہیں جنہیں رجحان ساز ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ فاروقی خود شاعر ہیں اور اسی لیے انہیں یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ شعر پر اظہار خیال کریں۔ ورنہ اردو کی ایک بڑی عجیب و غریب روایت بن گئی ہے کہ ایسے بر خود غلط لوگ جو شعر کی نزاکتوں سے واقف ہونا تو کجا‘ صحیح طریقے سے شعر پڑھ بھی نہیں سکتے‘ وہ شاعری اور شعریت پر بے تکان رائے دیتے ہیں۔ اور اس سے بڑی بو العجبی…

Read More

ڈاکٹر صفدر …. ترقی پسند تحریک کا نمائندہ نقاد: احتشام حسین

اردو دنیا میں احتشام حسین ایک بلند قامت شخصیت کا نام ہے۔ انعامات، اکرام، اعزازات اور احترام کی فضائیں چار طرف بکھری ہوئی ہیں۔ ان کا اتباع کرنے والے ذی علم اور ذی فہم اہل قلم ان کی تنقید کی اہمیت کا جواز سمجھے جاتے ہیں۔ احتشام صاحب نے بہت لکھا۔ احتشام صاحب پر بہت کچھ لکھا گیا۔ کلیم الدین احمد سے عمیق حنفی اور وہاب اشرفی تک ان سے اختلاف کرنے والے بھی اردو تنقید میں established لوگ ہیں۔ اس گرم بازاری کے باوجود میرا مسئلہ اپنی ’نظر‘ سے…

Read More

محمد حسین آزاد کی تصانیف

نیرنگِ خیال: (حصہ اول 1880، حصہ دوم 1923) مجموعہ نظمِ آزاد: 1896 ڈرامہ اکبر: (بعد از وفات1922) سخندانِ فارس: (حصہ اول 1887، حصہ دوم 1907) قصص ہند: (جلد دوم 1868) تذکرہ سنین الاسلام: (حصہ اول 1874، حصہ دوم 1876) دربارِ اکبری: 1898 آبِ حیات: (1879) نگارستانِ فارس: 1866 اور 1872 کے درمیان لکھی گئی (مرتبہ آغا محمد طاہر، 1922) سیرِ ایران (مرتبہ آغا محمد طاہر) دیوانِ ذوق: (اشاعت 1922) نصیحت کا کرن پھول: (1864میں لکھی گئی ، آغا محمد طاہر نے 1917میں شائع کیا فلسفہ الہیات مکتوباتِ آزاد (مرتبہ جالب…

Read More

پروفیسر معظم علی ۔۔۔ مولانا آزاد کی ادبی سیاسی اور صحافتی خدمات

مولانا آزاد کی ادبی، سیاسی و صحافتی خدمات پر اب تک بہت کچھ لکھا جا چکا ہے ۔ اس سلسلے میں محض کچھ تعریفی کلمات پر اکتفا کرنا یا پھر کچھ پیش رو مقررین، مصنفین کی آراء کو دہرا دینا غیر تشفی بخش ہو گا۔ میں مولانا آزاد کے افکار کا تجزیہ کرتے ہوئے موجودہ حالات میں ان کی موزونیت و اہمیت کو اپنے اس مقالے میں اجاگر کرنا چا ہوں گا۔ مولانا آزاد (1888-1958) ایک منفرد، ہمہ پلو شخصیت کے مالک تھے ۔ بیسویں صدی کا کوئی مورخ جو…

Read More

سب رس ۔۔۔ ملا وجہی (ایک جائزہ)

ملا وجہی کا شمار دکن میں اردو کے ابتدائی مصنفین میں ہوتا ہے ۔ان کی داستان سب رس کو اردو کی قدیم اور قابل ذکر داستانوں میں خاص مقام حاصل ہے۔ملاوجہی کو اردو ،فارسی اور عربی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ وجہی کے زمانے میں اردو ترقی یافتہ شکل میں نہیں تھی۔انہوں نے اسے عام بول چال کی زبان کی سطح سے اٹھا کر ادبی زبان بنانے کی اولین کوشش کی۔ان کی کتاب سب رس عشق و محبت کی داستاں ہونے کے ساتھ ساتھ پند و نصائح کا مرقع ہے۔جس…

Read More

ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی ۔۔۔۔ قلی قطب شاہ کی مذہبی شاعری

محمد قلی قطب شاہ( 1565-1611)سلطنت گولکنڈہ کا پانچواں فرماں رو اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر گذرا ہے۔ بہت کم عمر پائی۔ کم عمری میں سلطنت کی باگ ڈور سنبھالی لیکن اس کے دیوان پر نظر ڈالیں تو حیرت ہوتی ہے کہ اس کا دیوان پچاس ہزار اشعار پر مشتمل ہے۔ جس میں غزل ‘ قصیدہ‘ مثنوی‘ رباعی‘ مرثیہ وغیرہ تمام اصناف سخن پر طبع آزمائی کی گئی ہے۔ جہاں تک غزلوں کی تعداد کا تعلق ہے محمد قلی دکنی اردو کا سب سے اہم شاعر قرار پاتا ہے۔ محمد…

Read More

توصیف بریلوی ۔۔۔ جیلر

جیلر بہت عجیب تھا۔ ہوتا بھی کیوں نہ…نو عمری میں ہی عہدہ جو سنبھال لیا تھا۔ اس کی جیل میں ہندو مسلم ہر مذہب و ملت کے قیدی تھے۔ جیل میں اتنے نہاں تہ خانے تھے کہ کب کون سا قیدی آیا اور کب کون گیا کسی کو خبر نہیں ہوتی تھی بلکہ کسی قیدی کو اس بات کا علم ہی نہیں ہونے پاتا تھا کہ جیل میں اس کے سوا بھی کوئی قیدی ہے یا نہیں۔ جیلر سخت محتاط تھا۔ جیسا کہ عرض کر چکا ہوں جیلر بہت عجیب…

Read More

مدحت الاختر ۔۔۔ اس کو اپنا نہ سکے جس سے محبت پائی

اس کو اپنا نہ سکے جس سے محبت پائی جس کو دیکھا بھی نہ تھا اس کی رفاقت پائی خیر اتنا تو کیا ہم نے کسی کی خاطر شعر کچھ کہہ لۓ اور تھوڑی سی شہرت پائی ذائقے خون میں شامل ہیں ہزاروں لیکن جب ترا نام لیا، اور ہی لذت پائی یہ بھی احسان رہا میرے خدا کا مجھ پر جس سے اک بار ملا، اس سے محبت پائی

Read More