مدت ہوئی ملے بھی نہیں بات بھی نہ کی اس کے سوا کسی سے ملاقات بھی نہ کی ہم اپنے گوشۂ غمِ دل کے رہے اسیر چشمِ طلب سے سیرِمضافات بھی نہ کی ساری دعائیں صرف ہوئیں ان کے واسطے اپنے لۓ تو ہم نے منا جات بھی نہ کی پر مارتے ہی پھیر میں بچوں کے آ گئیں پھولوں سے تتلیوں نے ملاقات بھی نہ کی ظالم بدن چرا کے گیا میرے پاس سے اس صاحبِ نصاب نے خیرات بھی نہ کی
Read MoreMonth: 2023 جنوری
اعجاز عبید ۔۔۔ وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں
وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں جاگنے کی ہے شب کچھ دعا مانگ لوں اس مرض کی تو شاید دوا ہی نہیں دے رہا ہے وہ، دل کی شفا مانگ لوں عفو ہوتے ہوں آزار سے گر گناہ میں بھی رسوائی کی کچھ جزا مانگ لوں شاید اس بار اس سے ملاقات ہو بارے اب سچے دل سے دعا مانگ لوں یہ خزانہ لٹانے کو آیا ہوں میں اس کو ڈر ہے کہ اب جانے کیا مانگ لوں اب کوئی تیر تر کش میں باقی نہیں اپنے رب…
Read Moreیہاں بیٹھیں،رُکیں دم بھر … ستیہ پال آنند
یہاں بیٹھیں رُکیں دم بھر، ٹھہر کر سانس لیں سستائیں دو گھڑیاں کہ یہ لمحہ ، ہمارے ماضی ؑ مطلق سے حال ِ پا گریزاں تک دبے پائوں چلا آیا ہے اپنے ساتھ چپکے سے یہاں بیٹھیں، ٹھہر کر سانس لیں،سستائیں دو گھڑیاں کہ اس سے پیشتر یہ لمحہ ؑ موجود مستقبل کی جانب اک قدم آگے بڑھے، تحلیل ہو جائے کہیں لا وقت کے ازلی تواتر میں یہاں بیٹھیں، رُکیں دم بھر۔ٹھہر کر سانس لیں، سستائیں دو گھڑیاں بہت پہلے ہتھیلی پر لیے اُجلی لکیریں ہم چلے تھے…
Read Moreمضطر اکبر آبادی
بچ کر چلے ہیں راہ میں ہر نقشِ پا سے ہم آگے رہے ہیں چار قدم رہنما سے ہم
Read Moreمظہر امام
تھی خدا کی شرکت بھی ورنہ بوجھ نفرت کا کس طرح اٹھا پاتے شیخ و برہمن تنہا
Read Moreنذیر بنارسی
کس طرح وہ دن بھلاؤں جس برے دن کا شریک ایک بھی اپنا نہیں تھا اور بے گانے کئی
Read Moreاختر انصاری ۔۔۔ ایک رباعی
کیا قہر کو معبود! پئے بیٹھا ہے انصاف کے ہونٹوں کو سئے بیٹھا ہے آدم نے بنا ڈالے جہنم لاکھوں تو ایک جہنم کو لیے بیٹھا ہے
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ ایک رباعی
کیا لوگ رواں دواں ہیں چشمِ بددور شاداب و شگفتہ و بحالِ مسرور بغلوں میں چھپائے ہوئے اپنے کرتوت کاندھوں پہ بٹھائے ہوئے اوروں کے قصور
Read Moreصہبا اختر … ایک رباعی
گو سرحدِ ادراک سے ٹکراتا ہوں کب اپنا کہیں کوئی نشاں پاتا ہوں کیا میری حقیقت ہے، مگر اتنا ہے وہ خواب ہوں جو خود کو نظر آتا ہوں
Read Moreعزیز اعجاز
زلفیں کھلیں تو سب نے کہا شام ہو گئی گزرا اِدھر سے کون گھٹا پوچھنے لگی
Read More