مدحت الاختر … مدت ہوئی ملے بھی نہیں بات بھی نہ کی

مدت ہوئی ملے بھی نہیں بات بھی نہ کی اس کے سوا کسی سے ملاقات بھی نہ کی ہم اپنے گوشۂ غمِ دل کے رہے اسیر چشمِ طلب سے سیرِمضافات بھی نہ کی ساری دعائیں صرف ہوئیں ان کے واسطے اپنے لۓ تو ہم نے منا جات بھی نہ کی پر مارتے ہی پھیر میں بچوں کے آ گئیں پھولوں سے تتلیوں نے ملاقات بھی نہ کی ظالم بدن چرا کے گیا میرے پاس سے اس صاحبِ نصاب نے خیرات بھی نہ کی

Read More

اعجاز عبید ۔۔۔ وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں

وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں جاگنے کی ہے شب کچھ دعا مانگ لوں اس مرض کی تو شاید دوا ہی نہیں دے رہا ہے وہ، دل کی شفا مانگ لوں عفو ہوتے ہوں آزار سے گر گناہ میں بھی رسوائی کی کچھ جزا مانگ لوں شاید اس بار اس سے ملاقات ہو بارے اب سچے  دل سے دعا مانگ لوں یہ خزانہ لٹانے کو آیا ہوں میں اس کو ڈر ہے کہ اب جانے کیا مانگ لوں اب کوئی تیر تر کش میں باقی نہیں اپنے رب…

Read More

یہاں بیٹھیں،رُکیں دم بھر … ستیہ پال آنند

یہاں بیٹھیں رُکیں دم بھر،   ٹھہر کر سانس لیں سستائیں دو گھڑیاں کہ یہ لمحہ ، ہمارے ماضی  ؑ مطلق سے حال ِ پا گریزاں تک دبے پائوں چلا آیا ہے اپنے ساتھ چپکے سے یہاں بیٹھیں، ٹھہر کر سانس لیں،سستائیں دو گھڑیاں کہ اس سے پیشتر یہ لمحہ ؑ موجود مستقبل کی جانب اک قدم آگے بڑھے، تحلیل ہو جائے کہیں لا وقت کے ازلی تواتر میں یہاں بیٹھیں، رُکیں دم بھر۔ٹھہر کر سانس لیں،  سستائیں دو گھڑیاں بہت پہلے ہتھیلی پر لیے اُجلی لکیریں ہم چلے تھے…

Read More