منتظر کس کا ہوں ٹوٹی ہوئی دہلیز پہ میں کون آئے گا یہاں کون ہے آنے والا
Read MoreDay: جون 4، 2024
ماجد صدیقی ۔۔۔ جب سے اہلِ حرص کو کچھ کچھ ثمر ملنے لگے
جب سے اہلِ حرص کو کچھ کچھ ثمر ملنے لگے باغ میں کھوؤں سے کھوئے جا بجا چھِلنے لگے مسندِ انصاف جب سے گُرگ کو حاصل ہوئی آسماں اور یہ زمیں اِک ساتھ ہیں ہلنے لگے کیا خبر برسائے جائیں گے وہ کس نااہل پر پھول پودوں پر بڑی خسّت سے اب کھِلنے لگے بے بصر کرنے لگی ماجد گماں کی تیرگی خوف کی سوزن چلی ایسی کہ لب سلنے لگے
Read More