ہٹی زلف ان کے چہرے سے مگر آہستہ آہستہ عیاں سورج ہوا وقتِ سحر آہستہ آہستہ چٹک کر دی صدا غنچہ نے شاخِ گل کی جنبش پر یہ گلشن ہے ذرا بادِ سحر آہستہ آہستہ قفس میں دیکھ کر بازو اسیر آپس میں کہتے ہیں بہارِ گل تک آ جائیں گے پر آہستہ آہستہ کوئی چھپ جائے گا بیمارِ شامِ ہجر کا مرنا پہنچ جائے گی ان تک بھی خبر آہستہ آہستہ غمِ تبدیلیٔ گلشن کہاں تک پھر یہ گلشن ہے قفس بھی ہو تو بن جاتا ہے گھر آہستہ…
Read MoreDay: جون 4، 2024
استاد قمر جلالوی ۔۔۔ ممکن ہے کوئی موج ہو ساحل ادھر نہ ہو
ممکن ہے کوئی موج ہو ساحل ادھر نہ ہو اے نا خدا کہیں یہ فریبِ نظر نہ ہو یہ تو نہیں کہ آہ میں کچھ بھی اثر نہ ہو ممکن ہے آج رات کوئی اپنے گھر نہ ہو تاروں کی سیر دیکھ رہے ہیں نقاب سے ڈر بھی رہے ہیں مجھ پہ قمر کی نظر نہ ہو
Read Moreڈاکٹر معین الدین عقیل … سید جمال الدین افغانی اور اقبال
سید جمال الدین افغانی اور اقبال جمال الدین افغانی کے عہد کا عالم اسلام بہ حیثیت مجموعی افتادگی و پژمردگی کا شکار تھا، لیکن یہی دَور عالم انسانی تہذیب کے لئے نہایت انقلاب افزا اور تحریک آمیز بھی ہے۔ اس میں سائنس کی ایجادات اور اس کی ترقیوں کے سبب زمان و مکان کی وسعتیں سمٹ جاتی ہیں اور قوائے فطرت کی تسخیر سے انسان اپنی زندگی کو نئے انداز سے ترتیب دینے لگتا ہے۔ یورپ کا صنعتی انقلاب سیاست اور معاشرے کی بنیادیں تبدیل کر دیتا ہے۔ فرانسیسی انقلاب…
Read Moreڈاکٹر ریاض توحیدی …. اپنا گھر
اپنا گھر وہ دمے کی مریضہ تھی اور پچھلے ایک مہینے سے شہر کے ایک سرکاری اسپتال میں ایڈمٹ تھی۔ مقامی اسپتال میں علاج معالجہ کے بعد اسے جب کوئی خاص افاقہ نہیں ہوا بلکہ بیماری نے طول پکڑا تو اسے شہر کے چیسٹ کیئر اسپتال میں ریفر کیا گیا۔ در اصل چیسٹ کیئر اسپتال میں منتقل کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مقامی اسپتال میں چیک اپ کرنے کے بعد چند دوائیاں لکھ کر اسے گھر بھیج دیا جاتا تھا اور گھر پر رات دن کھانس کھانس…
Read Moreمحمد جمیل اختر ۔۔۔ ڈوبنے والوں کے خواب
ڈوبنے والوں کے خواب اس ملک کے لوگوں کی نیندوں میں دکھ بھرے خوابوں نے بسیرا کر لیا تھا۔۔ ۔۔ لوگ ہر تھوڑی دیر بعد چیخنے چلانے لگ جاتے، گھر میں کوئی نہ کوئی فرد جاگتا رہتا تاکہ ڈر کر جاگ جانے والوں کو بروقت پانی پلا کر حوصلہ دیا جا سکے ورنہ عموماً ڈرے ہوئے لوگ گھر سے نکل کر باہر کی جانب دوڑ لگا دیتے اور ایسے میں کئی ایک حادثات بھی ہو چکے تھے۔۔ ۔ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے باوجود ہر صبح کا اخبار ایسے حادثات…
Read Moreڈاکٹر غلام شبیر رانا … اختر انصاری دہلوی: جینے کی جد و جہد میں جی سے گزر گئے
اختر انصاری دہلوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جینے کی جد و جہد میں جی سے گزر گئے گردِشِ مدام اور پیہم شکستِ دِل کے نتیجے میں حساس تخلیق کار اضطراب اور اضمحلال کا شکار ہو جاتا ہے۔ جب اُس کی کوئی اُمید بر نہ آئے اور نہ ہی اصلاح احوال کی کوئی صورت دکھائی دے تو زندگی ایک کرب، اذیت اور عقوبت کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اختر انصاری دہلوی کی شاعری میں پائی جانے والی یہی کیفیت اس کے دِل پر اُترنے والے سب موسموں کا احوال پیش کرتی ہے۔ موزوں…
Read Moreجمال احسانی
اس نے بارش میں بھی کھڑکی کھول کے دیکھا نہیں بھیگنے والوں کو کل کیا کیا پریشانی ہوئی
Read Moreاشفاق حسین … فیض احمد فیض۔۔ شخصیت اور فن
فیض احمد فیض ۔۔شخصیت اور فن پاکستان کے قیام کے بعد اردو کے جس شاعر کو پاکستان اور بیرون پاکستان سب سے زیادہ شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی وہ فیض احمد فیض ہیں۔ شہرت و مقبولیت کی اسی دولت کے سبب ان کے چاہنے والوں کے ساتھ ساتھ ان سے اختلاف رکھنے والوں کا بھی ہمیشہ سے ایک حلقہ موجود رہا ہے یعنی نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا ؟ انہوں نے جب شاعری کی ابتداء کی تو بیسویں صدی کے سب سے زیادہ قد آور شاعر علامہ…
Read Moreسید راشد حامدی ۔۔۔ پنڈت آنند نرائن ملّا کا نظریۂ شعر و ادب
پنڈت آنند نرائن ملا کا نظریہ شعر و ادب پچھلی صدی کے پانچویں دہے سے شعر و ادب کے نام نہاد ناقدین ایک جھوٹ بڑے تو اتر سے بولتے آ رہے ہیں کہ ’’اگر سچ زیادہ ہو تو فن کم ہو جاتا ہے ‘‘۔ اگر اس جملے کی تقلیب کر کے یوں کہا جائے کہ ’’اگر جھوٹ زیادہ ہو تو فن بڑھ جاتا ہے ‘‘۔ تو ان ناقدین کی تیوریوں پر بل پڑ جائیں گے اور کہنے والے کا ادبی مقاطعہ کرنے میں انہیں دیر نہیں لگے گی۔ حالانکہ یہ…
Read Moreجمال احسان ۔۔۔ چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا
چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا یہ سانحہ مرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا جو پہلے روز سے دو آنگنوں میں تھا حائل وہ فاصلہ تو زمین آسمان میں بھی نہ تھا یہ غم نہیں ہے کہ ہم دونوں ایک ہو نہ سکے یہ رنج ہے کہ کوئی درمیان میں بھی نہ تھا ہوا نہ جانے کہاں لے گئی وہ تیر کہ جو نشانے پر بھی نہ تھا اور کمان میں بھی نہ تھا جمال پہلی شناسائی کا وہ اک لمحہ اسے بھی یاد نہ تھا…
Read More