خواہشِ انجمنِ جام و طرب ہے ہی نہیں سچ بتاؤں تو کوئی دل میں طلب ہے ہی نہیں لاکھ بتلاتا ہوں پھر بیچ میں لے آتے ہو مسلکِ عشق میں یہ نام و نسب ہے ہی نہیں حیف صد حیف یہاں کوئی گنہگار نہیں کیسی محفل ہے طلب گار و طلب ہے ہی نہیں نہیں معلوم کہ غمگین ہوں کس کی خاطر مسئلہ یہ ہے کوئی غم کا سبب ہے ہی نہیں عہد و پیمان ، شکایات ، جنوں ، میخانے عقل والوں کے نصیبوں میں یہ سب ہے ہی…
Read MoreDay: ستمبر 18، 2025
جوش ملیح آبادی ۔۔۔ موج دریا پہ چھا رہا ہے یہ کون
یہ غزل جوش ملیح آبادی کی تخیل انگیز، شہوانی و روحانی، وجدانی اور تمثیلی شاعری کا نادر و نایاب شاہکار ہے، جس میں حس، خواب، بدن، عشق، موسیقی، روشنی، ذہن، اور روح سب بیک وقت متحرک ہیں۔ پوری غزل ایک ہی سوال پر قائم ہے:
"یہ کون؟”
جیسے عشق، وجود، کائنات، فطرت، نسوانی حسن، اور الوہی اسرار — سب مل کر ایک منظرنامۂ تجلیات تشکیل دے رہے ہوں۔
Read More