صغیر احمد صغیر ۔۔۔ خواہشِ انجمنِ جام و طرب ہے ہی نہیں

خواہشِ انجمنِ جام و طرب ہے ہی نہیں سچ بتاؤں تو کوئی دل میں طلب ہے ہی نہیں لاکھ بتلاتا ہوں پھر بیچ میں لے آتے ہو مسلکِ عشق میں یہ نام و نسب ہے ہی نہیں حیف صد حیف یہاں کوئی گنہگار نہیں کیسی محفل ہے طلب گار و طلب ہے ہی نہیں نہیں معلوم کہ غمگین ہوں کس کی خاطر مسئلہ یہ ہے کوئی غم کا سبب ہے ہی نہیں عہد و پیمان ، شکایات ، جنوں ، میخانے عقل والوں کے نصیبوں میں یہ سب ہے ہی…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ موج دریا پہ چھا رہا ہے یہ کون

یہ غزل جوش ملیح آبادی کی تخیل انگیز، شہوانی و روحانی، وجدانی اور تمثیلی شاعری کا نادر و نایاب شاہکار ہے، جس میں حس، خواب، بدن، عشق، موسیقی، روشنی، ذہن، اور روح سب بیک وقت متحرک ہیں۔ پوری غزل ایک ہی سوال پر قائم ہے:

"یہ کون؟”

جیسے عشق، وجود، کائنات، فطرت، نسوانی حسن، اور الوہی اسرار — سب مل کر ایک منظرنامۂ تجلیات تشکیل دے رہے ہوں۔

Read More