مفہوم جب تک اُن سے گھمایا نہیں گیا باتوں میں اُن کی ہم سے بھی آیا نہیں گیا نشو و نما ہو کیسے ہمارے وجود کی ہم سے ترا فریب بھی کھایا نہیں گیا خود آگیا تو اس لیے رکھنا پڑا اِسے یہ شعر کھینچ تان کے لایا نہیں گیا پایا نہیں گیا جو رہا ہم کو دستیاب اور گم ہوا تو ہم سے گنوایا نہیں گیا یاروں کی بے رخی ہے یقینا عروج پر کب سے مرا مذاق اُڑایا نہیں گیا
Read MoreDay: جون 17، 2026
امجد اسلام امجد ۔۔۔ غزلِ مسلسل
غزلِ مسلسل مانا بہ دیر ایک سی حالت نہیں رہی پر کیا کریں کہ صبر کی طاقت نہیں رہی کچھ بھی نہیں تھا پاس تو رہتے تھے جب بھی خوش اور اب کسی بھی چیز میں لذّت نہیں رہی چھاتا نہیں ہے ذہن پہ وہ وصل ہو کہ ہجر شاید لہو کی آگ میں شدّت نہیں رہی دنیا کے تو حساب سے ہم کامیاب ہیں البتہ خود سے ملنے کی فرصت نہیں رہی ہم کیوں زمیں کا بوجھ بنے تم کو اس سے کیا تم پر تو بے وفائی کی…
Read More