شہر کا ماجرا نہ پوچھ، شہر تو یوں ہوا کہ بس!
گھر میں کوئی گلی ہوئی، جیسے گلی میں گھر ہوا
Related posts
-
-
راحت اندوری
بوتلیں کھول کر تو پی برسوں آج دل کھول کر بھی پی جائے -
راحت اندوری
شام نے جب پلکوں پہ آتش دان لیا کچھ یادوں نے چٹکی میں لوبان لیا
