جو کہیں باہر ہے اس کو کھوجتے ہیں جان و دل میں
جو چھپا بیٹھا ہے اندر اس کو باہر ڈھونڈتے ہیں
Related posts
-
احمد ادریس
تجھ سے آغاز ہوا حرفِ صداقت کا نصاب تیرے سینے سے چلی جراتِ انکار حسین -
جوش ملیح آبادی
کوئی صدمہ ضرور پہنچے گا آج کچھ دل کو شادمانی ہے -
