مجید اختر ۔۔۔ عطا قدرت نے فرمادی بڑی جاگیر، بسم اللہ

عطا قدرت نے فرمادی بڑی جاگیر، بسم اللہ
ثنائے اہلبیتؑ و ماتمِ شبیر ؑ ، بسم اللہ

گراں پتھر، یہ میری راہ کے مجھ سے نہیں ہٹتے
مدد کرنا مری اے دستِ خیبر گیر، بسم اللہ

مرے قاری تجھے بخشش ہوا ہے لحنِ داؤدی
جگا جادو، سنا پھر آیۂ تطہیر، بسم اللہ

عزائے شہ ؑ بھی لکھی، مدحتِ شبیرؑ بھی لکھ دی
مقدر میں مرے اے داورِ تقدیر، بسم اللہ

پیمبرؑ کی طرح جب اکبرِ مہ رُو چلے رن کو
لگا افلاک میں ایک نعرۂ تکبیر، بسم اللہ

بشاشت چھین لی ہے ظُلم کے رُخ سے قیامت تک
تبسّم نے ترے اے اصغرِ بے شِیر، بسم اللہ

شہادت ہے یہ حُرؓ کی یا حیاتِ جاودانی ہے
ملا رومالِ زہراؑ، زانوئے شبیرؑ، بسم اللہ

ً بنا کردند خوش رسمے، بخاک و کون غلطیدن ً
مبارک ہو شہیدو، نُصرتِ شبیرؑ، بسم اللہ

مقدر ہو تو کام آجاؤں میں بھی نُصرتِ شہؑ میں
چلے خنجر، کٹے گردن، لگیں سو تیر، بسم اللہ

میں شغلِ مدحتِ شبیرؑ میں تنہا نہیں ہوتا
فرشتے ساتھ ہوتے ہیں ، دمِ تحریر، بسم اللہ

Related posts

Leave a Comment