سرور فرحان ۔۔۔ فراقِ روح سے بس ایک کتبہ بن گیا ہوں

فراقِ روح سے بس ایک کتبہ بن گیا ہوں
میں اک اجڑی ہوئی بستی کا حصہ بن گیا ہوں

مجھے لگتا نہیں پَر کھول پاؤں گا فضا میں
میں اپنے عشق کا خود ہی نشانہ بن گیا ہوں

سکوں کیا خاک دوگے تم مجھے اے لمحۂ وصل!
مسلسل ہجر کی چوٹوں سے پارا بن گیا ہوں

مری آنکھوں میں ہیں تبدیلیاں سارے جہاں کی
کبھی ناظر کبھی خود ہی نظارہ بن گیا ہوں

جہاں تک ہو سکے تم آزماؤ صبر میرا
مگر پتھر نہیں ہوں اب ، میں شعلہ بن گیا ہوں

چھپاکر اس قدر جو تم مجھے رکھنے لگے ہو
میں کب سے اس قدر مہنگا اثاثہ بن گیا ہوں

نکل سکتے ہو تم کیسے حصارِ آرزو سے
تمھارے چارسو چاہت کا ہالہ بن گیا ہوں

سبھی کے رابطہ نمبر ہوئے ہیں جب سے ڈیلیٹ
گماں ہوتا ہے جیسے میں جزیرہ بن گیا ہوں

Related posts

Leave a Comment