جلیل عالی ۔۔۔ کمال کیسے، ہنر کیا سے کیا دکھاتی ہے

کمال کیسے، ہنر کیا سے کیا دکھاتی ہے
غزل دماغ کو بھی دل بنا دکھاتی ہے

لہو میں جاگ اٹھے جب چراغِ عشق کی لَو
شبوں میں آپ ہوا راستہ دکھاتی ہے

زمانوں بعد جو ہونا ہو، کوئی موجِ خیال
سب اُس کے عکس نگاہوں میں لا دکھاتی ہے

کسی نے میری بصارت پہ کیا فسوں پھونکا
کہ آئنے میں کوئی دوسرا دکھاتی ہے
میں ایسی دانشِ مجہول کا نہیں قائل
جو عشق و جنگ میں سب کچھ رَوا دکھاتی ہے

نگاہ جب بھی اٹھاتا ہوں آسماں کی طرف
کوئی الگ سا ستارا نیا دکھاتی ہے

تری غزل سرِ آشوبِ حرف و فن عالی
کسی نواح میں کچھ تو ہرا دکھاتی ہے

Related posts

Leave a Comment