افتخار حیدر ۔۔۔ گو لاکھ چھپاتے رہے مکار حقیقت

گو لاکھ چھپاتے رہے مکار حقیقت
شبیر نے لکھ دی سرِ دیوار حقیقت

اکبر کی اذاں ،اصغرِ بے شیر کی مسکان
اور قاسمِ ذی جاہ کی للکار حقیقت

گو شام کی آندھی نے اسے گھیرا ہے لیکن
نیزے پہ نظر آتی ہے ضوبار حقیقت

ہر دور میں فتووں کے غلاف اس پہ چڑھے ہیں
تاریخ بتاتی رہی ہر بار حقیقت

سجاد نے جھٹلایا سرِ تخت عدو کو
زینب نے بتائی سرِ دربارِ حقیقت

Related posts

Leave a Comment