مظہرِ خوشنودئ داور علم عباس کا
ایک دن لہرائے گا گھر گھر علم عباس کا
کیسا لگتا ہوں مین جب کرتا ہوں مدح اہل بیت
کیسا لگتا ھے مرے سر پر علم عباس کا
ہم غلامانِ در مشکل کشا، مشکل کے وقت
چومتے ہیں یاعلیؑ کہہ کر علم عباس کا
کون جانے روزِ عاشورہ فرازِ نور سے
دیکھتے ہوں فاتحِ خیبر علم عباس کا
اک پھریرا اک نشانِ خیر اک ننھی سی مشک
ہر دلِ مومن کو ازبر ہے علم عباس کا
کاش سن پاؤں کسی رہوار کے قدموں کی چاپ
دیکھ پاؤں خواب میں اکثر علم عباس کا
