چشمِ نم کو دیکھیے، دل کے غم کو دیکھیے
جائیے ہم کو جانیے، جائیے ہم کو دیکھیے
پچھلے قدم کی دھول کو جھاڑ کے آگے آئیے
رستے کے ساتھ بھاگتے اگلے قدم کو دیکھیے
خیموں میں اک چراغ بھی جلنے نہیں دیا گیا
شہرِ ستم کی شام میں اہلِ ستم کو دیکھیے
کچھ بھی نہ اور دیکھیے تیغ و تبر کے باب میں
دیکھیے بس حسینؑ کے رنج و الم کو دیکھیے
ہم کو امامِ صبر نے ایک یہی سبق دیا
اُس کی رضا کو دیکھیے، اُس کے کرم کو دیکھیے
کامی یہ وقت عصر کے وقت میں ہی سما گیا
عصر کے دکھ کو جانیے، عصر کے غم کو دیکھی
