سلام ۔۔۔ منیر سیفی

کتنی صدیاں بِیت گئی ہیں گِریہ بند نہیں ہوتا
پانی بند تو ہو سکتا ہے، دریا بند نہیں ہوتا

اندھے زعم میں آندھی شاید یہ سچائی بھُول گئی
چند مسافر کم ہونے سے رستا بند نہیں ہوتا

موت اور سائل دستک کی خفّت سے بچ بھی سکتے ہیں
اِک گھر ایسا ہے جس کا دروازہ بند نہیں ہوتا

جب تک پیروکار نبی کے آنا بند نہیں ہوتے
حق کی خاطر جاں دینے کا رستا بند نہیں ہوتا

کیا کیا ظُلم نہیں ہوتے اب، لیکن میں بھی دیکھوں گا
ایک حسین کے آ جانے سے کیا کیا بند نہیں ہوتا؟

Related posts

Leave a Comment