دل سلسلۂ شوق کی تشہیر بھی چاہے زنجیر بھی آوازۂ زنجیر بھی چاہے آرام کی صورت نظر آئے تو کچھ انساں نیرنگ شب و روز میں تغییر بھی چاہے سودائے طلب کو نہ توکل کے عوض دے یہ شرط تو خود خالق تقدیر بھی چاہے لازم ہے محبت ہی محبت کا بدل ہو تصویر جو دیکھے اسے تصویر بھی چاہے اک پل میں بدلتے ہیں خد و خال لہو کے آنکھ اپنے کسی خواب کی تعبیر بھی چاہے لہجہ تو بدل چبھتی ہوئی بات سے پہلے تیر ایسا تو کچھ…
Read MoreCategory: آج کی غزل
گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ اپنا دکھڑا کہتے ہیں ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
اپنا دکھڑا کہتے ہیں اور تجھے کیا کہتے ہیں کچی کونپل ہوتا ہے پیار کا رشتہ کہتے ہیں دنیا کس کی اپنی ہے اہل دنیا کہتے ہیں اے دل یہ در ماندگیاں تجھ کو دریا کہتے ہیں اپنا سا بس لگتا ہے جس کو اپنا کہتے ہیں لوٹنے والے! دیر نہ کر لوٹ کے لے جا کہتے ہیں گوہرؔ لوگ تو بات نہیں بات کا سہرا کہتے ہیں
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ ان کو دل دے کے پشیمانی ہے
ان کو دل دے کے پشیمانی ہے یہ بھی اک طرح کی نادانی ہے وصل سے آج نیا ہے انکار تم نے کب بات مری مانی ہے آپ دیتے ہیں تسلی کس کو ہم نے اب اور ہی کچھ ٹھانی ہے حال بن پوچھے کہے جاتا ہوں اپنے مطلب کی یہ نادانی ہے کس قدر بار ہوں غم خواروں پر کیا سبک میری گراں جانی ہے گھر بلا کر وہ مجھے لوٹتے ہیں یہ نئی طرح کی مہمانی ہے ہم سے وحشت کی نہ لے او مجنوں ہم نے بھی…
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ دل میں ہیں وصل کے ارمان بہت
دل میں ہیں وصل کے ارمان بہت جمع اس گھر میں ہیں مہمان بہت آئے تو دست جنوں زوروں پر چاک کرنے کو گریبان بہت میری جانب سے دل اس کا نہ پھرا دشمنوں نے تو بھرے کان بہت لے کے اک دل غم کونین دیا آپ کے مجھ پہ ہیں احسان بہت ترک الفت کا ہمیں کو ہے غم وہ بھی ہیں دل میں پشیمان بہت دل کے ویرانے کا ہے عالم کچھ اور ہم نے دیکھے ہیں بیابان بہت خاک ہونے کو ہزاروں حسرت خون ہونے کو ہیں…
Read Moreمحمد علوی … اچھے دن کب آئیں گے
اچھے دن کب آئیں گے کیا یوں ہی مر جائیں گے اپنے آپ کو خوابوں سے کب تک ہم بہلائیں گے بمبئی میں ٹھہریں گے کہاں دلی میں کیا کھائیں گے کھلتے ہیں تو کھلنے دو پھول ابھی مرجھائیں گے کتنی اچھی لڑکی ہے برسوں بھول نہ پائیں گے موت نہ آئی تو علویؔ چھٹی میں گھر جائیں گے
Read Moreگوہرہوشیارپوری ۔۔۔ دریا میں یہ ناؤ کس طرف ہے … गौहर होशियारपुरी
دریا میں یہ ناؤ کس طرف ہے پانی کا بہاؤ کس طرف ہے یہ راہ کدھر کو مڑ رہی ہے لوگوں کا لگاؤ کس طرف ہے منزل کہاں تاکتے ہیں راہی تکتے ہیں پڑاؤ کس طرف ہے تاثیر کہاں گئی سخن سے جذبوں کا الاؤ کس طرف ہے آواز کہیں بلا رہی ہے یاروں کا رجھاؤ کس طرف ہے تصویر دکھا رہی ہے کیا کچھ رنگوں کا رچاؤ کس طرف ہے کھوئے ہوئے تم کہاں ہو گوہرؔ دل کا یہ کھچاؤ کس طرف ہے
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ عجب زمانے کی گردشیں ہیں خدا ہی بس یاد آ رہا ہے
عجب زمانے کی گردشیں ہیں خدا ہی بس یاد آ رہا ہے نظر نہ جس سے ملاتے تھے ہم وہی اب آنکھیں دکھا رہا ہے بڑھی ہے آپس میں بد گمانی مزہ محبت کا آ رہا ہے ہم اس کے دل کو ٹٹولتے ہیں تو ہم کو وہ آزما رہا ہے گھر اپنا کرتی ہے نا امیدی ہمارے دل میں غضب ہے دیکھیو یہ وہ مکاں ہے کہ جس میں برسوں امیدوں کا جمگھٹا رہا ہے بدل گیا ہے مزاج ان کا میں اپنے اس جذب دل کے صدقے وہی…
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ منہ مرا ایک ایک تکتا تھا
منہ مرا ایک ایک تکتا تھا اس کی محفل میں میں تماشا تھا ہم جو تجھ سے پھریں خدا سے پھریں یاد ہے کچھ یہ قول کس کا تھا وصل میں بھی رہا فراق کا غم شام ہی سے سحر کا کھٹکا تھا اپنی آنکھوں کا کچھ قصور نہیں حسن ہی دل فریب اس کا تھا فاتحہ پڑھ رہے تھے وہ جب تک میری تربت پر ایک میلا تھا نامہ بر نامہ جب دیا تو نے کچھ زبانی بھی اس نے پوچھا تھا اب کچھ اس کا بھی اعتبار نہیں…
Read Moreگوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ جاتی رت سے پیار کرو گے ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
جاتی رت سے پیار کرو گے کر لو بات ادھار کرو گے تب مل کر احسان کیا تھا اب مل کر ایثار کرو گے جتنے خواب اتنی تعبیریں کتنے داغ شمار کرو گے اے انکار کے خوگر لوگو اور بھی کوئی وار کرو گے اس کے نام کو ناؤ بنا کر پیاسوں کو سرشار کرو گے فرض کرو ہم مر نہ سکے تو جینے سے انکار کرو گے فرض کرو ہم ہار گئے تو قبر کہاں تیار کرو گے
Read Moreگوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ متاع عشق ذرا اور صرف ناز تو ہو ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
متاع عشق ذرا اور صرف ناز تو ہو تضیع عمر کا آخر کوئی جواز تو ہو بہم دگر کوئی شب اس سے لب بہ لب تو چلے ہوائے شوق کچھ آلودۂ مجاز تو ہو قدم قدم کوئی سایہ سا متصل تو رہے سراب کا یہ سر سلسلہ دراز تو ہو وہ کم سخن نہ کم آمیز پھر تکلف کیا کچھ اس سے بات تو ٹھہرے کچھ اس سے ساز تو ہو وفا سے منزل ترک وفا تک آ نکلے کسی بہانے تو پتھر کبھی گداز تو ہو شفق کنایۂ لب…
Read More