اک لڑکا تھا اک لڑکی تھی آگے اللہ کی مرضی تھی پہلا پھول کھلا تھا دل میں لہو میں خوشبو دوڑ گئی تھی پہلا سانس لیا تھا سکھ کا پہلی بار ہوا اک چلی تھی اب کیا جانیں لیکن پہلے چاند پہ اک بڑھیا رہتی تھی یہ بازار کہاں تھا پہلے یہاں تو پہلے ایک گلی تھی پانی میں بجلی کا گھر تھا پتھر میں چنگاری چھپی تھی
Read MoreCategory: آج کی غزل
گوہر ہوشیار پوری ۔۔۔ ہے جو بھی جزا سزا عطا ہو ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
ہے جو بھی جزا سزا عطا ہو ہونا ہے جو آج برملا ہو اس دن بھی جو سر پہ دھوپ چمکی جس دن پہ بہت فریفتہ ہو اس رات بھی نیند اگر نہ آئی جس رات پہ اس قدر فدا ہو رنگوں میں وہی تو رنگ نکلا جو تیری نظر میں جچ گیا ہو پھولوں میں وہی تو پھول ٹھہرا جو تیرے سلام کو کھلا ہو اک شخص خدا بنا ہوا ہے کیا ہو جو یہی مرا خدا ہو سوگند مجھے غزل کی گوہرؔ میں نے جو زباں سے کچھ…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ راگنیوں سے بے بہرہ سُر تالوں جیسے
راگنیوں سے بے بہرہ سُر تالوں جیسے کام مرے، کانٹوں میں اُلجھے بالوں جیسے دھڑکن دھڑکن بے تابی ہے اور جیون کے لمحے بوجھل قدموں، ٹھِٹھرے سالوں جیسے اندر بعض گھروں میں سیم و زر کی بارش باہر کے احوال سبھی کنگالوں جیسے دھُند سے نکلے کیونکر پار، مسافت اُن کی رہبر جنہیں میّسر ہوں، نقّالوں جیسے اپنے ہاں کے حبس کی بپتا بس اتنی ہے آنکھوں آنکھوں اشک ہیں ماجدؔ چھالوں جیسے
Read Moreگوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ دکھی دلوں میں، دکھی ساتھیوں میں رہتے تھے ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
دکھی دلوں میں، دکھی ساتھیوں میں رہتے تھے یہ اور بات کہ ہم مسکرا بھی لیتے تھے وہ ایک شخص برائی پہ تل گیا تو چلو سوال یہ ہے کہ ہم بھی کہاں فرشتے تھے اور اب نہ آنکھ نہ آنسو نہ دھڑکنیں دل میں تمہی کہو کہ یہ دریا کبھی اترتے تھے جدائیوں کی گھڑی نقش نقش بولتی ہے وہ برف بار ہوا تھی، وہ دانت بجتے تھے اب ان کی گونج یہاں تک سنائی دیتی ہے وہ قہقہے جو تری انجمن میں لگتے تھے وہ ایک دن کہ…
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ زمین لوگوں سے ڈر گئی ہے
زمین لوگوں سے ڈر گئی ہے سمندروں میں اتر گئی ہے خموشیوں میں صدا گجر کی خیال کے پر کتر گئی ہے کھڑے ہیں بے برگ سر جھکائے ہوا درختوں کو چر گئی ہے ہمیں تو نیند آئے گی نہ لیکن یہ رات بھی تو ٹھہر گئی ہے کہاں بھٹکتے پھرو گے علویؔ سڑک سے پوچھو کدھر گئی ہے
Read Moreگوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ سر پر کوئی آسمان رکھ دے ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
سر پر کوئی آسمان رکھ دے اک منہ میں مگر زبان رکھ دے آ صلح نہیں سلام تو لے یہ تیر چڑھی کمان رکھ دے اتنا بھی نہ بے لحاظ ہو جا تھوڑا سا تو خوش گمان رکھ دے تجھ کو تری حکمتیں مبارک اک ہاتھ پہ اک جہان رکھ دے پھر ہم کو گدائے رہ بنا کر رہ میں کوئی امتحان رکھ دے تفصیل کہیں گراں نہ پڑ جائے اک حرف میں داستان رکھ دے اب دھیان کی بات چھڑ گئی تو کچھ اس سے الگ بھی دھیان رکھ…
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ اسے نہ دیکھ کے دیکھا تو کیا ملا مجھ کو
اسے نہ دیکھ کے دیکھا تو کیا ملا مجھ کو میں آدھی رات کو روتا ہوا ملا مجھ کو ترا نہ ملنا عجب گل کھلا گیا اب کے ترے ہی جیسا کوئی دوسرا ملا مجھ کو کل ایک لاش ملی تھی مجھے سمندر میں اسی کی جیب سے تیرا پتا ملا مجھ کو بہت ہی دور کہیں کوئی بم گرا تھا مگر مرا مکان بھی جلتا ہوا ملا مجھ کو مری غزل تھی پہ علویؔ کا نام تھا اس پر غزل پڑھی تو انوکھا مزا ملا مجھ کو
Read Moreگوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ یہاں کون اس کے سوا رہ گیا … गौहर होशियारपुरी
یہاں کون اس کے سوا رہ گیا زمانہ گیا آئنہ رہ گیا وہ حسن سراپا وہ حسن آفریں مگر ہر کوئی دیکھتا رہ گیا چلو کیا ہوا روشنی ہی تو تھی یہاں دیکھنے کو بھی کیا رہ گیا ہماری کچھ اپنی روایت بھی تھی کتابوں میں لکھا ہوا رہ گیا خدائی کو بھی ہم نہ خوش رکھ سکے خدا بھی خفا کا خفا رہ گیا مقدر کہیں کج کلاہی کرے کوئی گھر میں محو دعا رہ گیا کہیں ایک چپ بھی رسا ہو گئی کوئی بولتا بولتا رہ گیا
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ ناحق پہ بھی لاریب گھڑی آئے گی کچھ اور
ناحق پہ بھی لاریب گھڑی آئے گی کچھ اور خاموشیِ وجدان، خبر لائے گی کچھ اور جیسے کسی قیدی کو جنم دِن کا حوالہ پنجرے میں صبا جھانک کے تڑپائے گی کچھ اور صرصر نے جو دھارا ہے نیا روپ صبا کا یہ فاحشہ ابدان کو سہلائے گی کچھ اور کہہ لو اُسے تم رقص پہ طوفانِ بلا میں کمزور ہے جو شاخ وہ لہرائے گی کچھ اور وہ آنکھ جسے دھُن ہے فروغِ گلِ تر کی موسم ہے گر ایسا ہی تو شرمائے گی کچھ اور نکلی ہی نہیں…
Read Moreگوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ مرحلہ طے کوئی بے منت جادہ بھی تو ہو ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
مرحلہ طے کوئی بے منت جادہ بھی تو ہو غم بڑھے بھی تو سہی درد زیادہ بھی تو ہو ایسی مشکل تو نہیں دشت وفا کی تسخیر سر میں سودا بھی تو ہو دل میں ارادہ بھی تو ہو ذہن کا مشورۂ ترک طلب بھی برحق ذہن کی بات قبول دل سادہ بھی تو ہو کہیں بادل کہیں سورج کہیں سایہ کہیں دھوپ مرے معبود ترا کوئی لبادہ بھی تو ہو پیار میں کم تو نہیں کم نگہی بھی اس کی ہاں تنک ظرفیٔ احساس کشادہ بھی تو ہو عاشقی…
Read More