ماجد صدیقی ۔۔۔ فصیلوں پر سحر، صحنوں میں شب ہے

فصیلوں پر سحر، صحنوں میں شب ہے ہمارے شہر کا موسم عجب ہے وہ دیکھو ماہِ رخشاں بادلوں سے لپٹ کر کس قدر محوِ طرب ہے پئے عرفانِ منزل، گمرہوں کو کہیں ہم جو بھی کچھ، لہو و لعب ہے کچھار اپنی بنا لو حفظِ جہاں کو نگر میں اب یہی جینے کا ڈھب ہے ہمارے ہی لئے کیوں ایک ماجد مزاجِ دہر میں رنج و تعب ہے

Read More

محمود کیفی ۔۔۔ رنج و آلام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا

رنج و آلام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا میں تِرے دام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا اب کوئی کام محبت کے سِوا مُجھ کو نہیں اب اگر کام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا جپ رہا ہُوں یہ تِرا نام تو میں زِندہ ہُوں میں تِرے نام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا میرے ہونے کی علامت ہے فلک پر یہ شفق منظرِ شام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا منظرِ عام پہ آنے سے یہ اِحساس ہُوا منظرِ عام سے نِکلوں گا…

Read More

گوہر ہوشیار پوری ۔۔۔ شاعری بات نہیں گرم سخن ہونے کی … गौहर होशियारपुरी

شاعری بات نہیں گرم سخن ہونے کی شرط ہی اور ہے شائستۂ فن ہونے کی میں کہ ہر دم مجھے بالیدگیٔ روح کی فکر روح کو فکر ہے وارستۂ تن ہونے کی رم بہ رم سلسلۂ موج غزالان خیال دشت غربت کو بشارت ہو وطن ہونے کی پرتو رنگ سے گلگوں ہوا معمورۂ چشم دھوم ہے کوئے تماشا کے چمن ہونے کی حق پرستی کو یہاں کون ہے آمادۂ دار کس کو توفیق ہے بے گور و کفن ہونے کی یا بچے گا نہ سحر تک کوئی درماندۂ شب یا…

Read More

شاہنواز زیدی ۔۔۔ آنکھ پھر تیرے خواب سے بھر لوں

آنکھ پھر تیرے خواب سے بھر لوں یہ پیالہ سراب سے بھر لوں پھر شبِ ہجر آنے والی ہے روشنی آفتاب سے بھر لوں کس لئے طالبِ ثواب بنوں سر حساب و کتاب سے بھر لوں کامیابی کی راہ پر نکلوں زندگی اضطراب سے بھر لوں کیسے تجدید کار عشق کروں روز و شب پھر عذاب سے بھر لوں کیسے مانوں رحیم کو جابر جام کو اجتناب سے بھر لوں ہاتھ پھیلاؤں گا دعا کے لئے پہلے چلّو شراب سے بھر لوں

Read More

گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ بندوں کا مزاج ہم نے دیکھا ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

بندوں کا مزاج ہم نے دیکھا کیا کچھ نہیں آج ہم نے دیکھا ہلتے ہوئے تخت کو سنبھالو گرتا ہوا تاج ہم نے دیکھا جیتے تو خوشی سے مر نہ جاتے کس شخص کا راج ہم نے دیکھا کیا کیا نہ ترس ترس گئے ہم کیا کیا نہ سماج ہم نے دیکھا روئے ہیں تو لوگ رو پڑے ہیں اب کے تو رواج ہم نے دیکھا گوہرؔ کو سلام شوق پہنچے کچھ کام نہ کاج ہم نے دیکھا

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ شاہیں پہ بندھ رہا تھا نشانہ، کمان کا

شاہیں پہ بندھ رہا تھا نشانہ، کمان کا خیمہ مگر اُڑا کسی چڑیا کی جان کا آئے گی کب، کہاں سے، نجانے نمِ یقیں ہٹتا نہیں نظر سے بگولا گمان کا اونچا اُڑا، تو سمتِ سفر کھو کے رہ گئی رُخ ہی بدل گیا، مری سیدھی اُڑان کا کیا جانیے، ہَوا کے کہے پر بھی کب کھلے مشتِ خسیس سا ہے چلن، بادبان کا ہم پَو پَھٹے بھی، دھُند کے باعث نہ اُڑ سکے یوں بھی کھُلا کِیا ہے، عناد آسمان کا ماجدؔ نفس نفس ہے گراں بار اِس طرح…

Read More

گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ یہ صحرائے طلب یا بیشۂ آشفتہ حالی ہے ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

یہ صحرائے طلب یا بیشۂ آشفتہ حالی ہے کوئی دریوزہ گر اپنا کوئی تیرا سوالی ہے حوادث سے نبرد آرائیوں کا کس کو یارا تھا جنوں اپنا سلامت جس نے ہر افتاد ٹالی ہے ترے اغماض کی خو سیکھ لی اہل مروت نے کہ محفل درد کی اب صاحب محفل سے خالی ہے حضوری ہو کہ مہجوری محبت کم نہیں اس سے تب اپنا بخت عالی تھا اب اپنا ظرف عالی ہے نمو کا جوش کچھ نظارہ فرما ہو تو ہو ورنہ بہار اب کے برس خود پائمال‌ خشک سالی…

Read More

اکرم ناصر ۔۔۔ جہاں تھا ذکر برق و آشیاں کا … अकरम नासिर

جہاں تھا ذکر برق و آشیاں کا وہ حصہ پھر سناؤ داستاں کا یہاں بارش سے پہلے بستیاں تھیں مکیں ہے کھوج میں کچے مکاں کا جسے سورج سمجھتا ہے زمانہ دہانہ ہے کسی آتش فشاں کا ترا ملنا بچھڑنا یاد ہے بس مجھے بھولا ہے سب کچھ درمیاں کا عجب خواہش افق پر جا کے دیکھوں گلے ملنا زمیں سے آسماں کا جو میرے اور اس کے درمیاں ہے وہی رشتہ ہے اکرم جسم و جاں کا

Read More

گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ اک سایۂ شام یاد آیا … गौहर होशियारपुरी

اک سایۂ شام یاد آیا خوشبو کا خرام یاد آیا دھویا ہوا سات پانیوں میں کیا نام تھا نام یاد آیا لہجے میں شگفتگی گلوں کی اک شستہ کلام یاد آیا اچھا ہوا گور تک تو پہنچے یاروں کو سلام یاد آیا اے موجۂ باد کیا ہوا ہے کیا تازہ پیام یاد آیا کچھ اور زمیں میں گڑ گئے ہم جب اپنا مقام یاد آیا مقتل سے مڑ آئے گھر کو گوہرؔ شاید کوئی کام یاد آیا

Read More

نادیہ سحر ۔۔۔ راستے خوف سے بھرے ہوئے ہیں … नादिया सहर

راستے خوف سے بھرے ہوئے ہیں لوگ اندر سے سب ڈرے ہوئے ہیں وقت بدلا کہ آئنہ بدلا وہ جو پہلے تھے دوسرے ہوئے ہیں زخم ہی زخم ہو گئے ہیں ہم درد ہی درد سے بھرے ہوئے ہیں کچھ تو ایسا ہوا ہے جس کے سبب اپنے سائے سے بھی ڈرے ہوئے ہیں سامنا کیا ہوا کسی سے سحر مندمل زخم بھی ہرے ہوئے ہیں

Read More