میں خود ہی خوگر خلش جستجو نہ تھا دشوار ورنہ مرحلۂ آرزو نہ تھا ناحق خراب منت درماں ہوا نہ درد ممنون زخم ہوں کہ مقام رفو نہ تھا یا آشنائے رمز طلب ہی نہ تھی زباں لب وا ہوئے تو حوصلۂ گفتگو نہ تھا نا پرسش وفا کی یہ نوبت کبھی نہ تھی دل یوں سلوک اہل کرم سے لہو نہ تھا ہاں کب بنام عشق ہوس سرخ رو نہ تھی ہاں کب نیاز شوق سبک کو بہ کو نہ تھا خوش فہمیٔ خیال کی اب ضد کا کیا…
Read MoreCategory: آج کی غزل
زبیر خیالی ۔۔۔ حیات ایسے گزاری جارہی ہے … ज़ुबैर ख़याली
حیات ایسے گزاری جارہی ہے کہ یہ بیکار ساری جا رہی ہے مکانِ دل ہے گَرد آلود کتنا مگر صورت سنواری جارہی ہے اِرادے خودکشی کرنے لگے ہیں تمنا دل میں ماری جارہی ہے بڑا پرسوز عالم ہے وہاں کا جہاں تک آہ و زاری جا رہی ہے الٰہی! عدل کی میزانِ برحق زمیں پر کب اتاری جا رہی ہے زمانہ معترف جس کا کبھی تھا وہ رسمِ دوست داری جا رہی ہے اِسی رستے پہ منزل ہے خیالی جدھر اپنی سواری جا رہی ہے
Read Moreرخسانہ فیض ۔۔۔ ہو چکا ہے جو ترے بعد پرانا دیکھے … रुख़साना फ़ैज़
ہو چکا ہے جو ترے بعد پرانا دیکھے آئے دنیا مری آنکھوں کا زمانہ دیکھے روشنی پھوٹ پڑی ہے تری حدت کے طفیل زندگی لوٹ کے آئے میرا شانا دیکھے چند لمحوں کی رفاقت میں بنایا ہے اسے کوئی آئے تری یادوں کا خزانہ دیکھے رونے لگتے ہیں نئے درد مرے سینے میں جب مری سمت کوئی رنج پرانا دیکھے
Read Moreگوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ دل تمام آئینے تیرہ کون روشن کون ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
دل تمام آئینے تیرہ کون روشن کون اب یہ آنکھ ہی جانے دوستوں میں دشمن کون یا جگر میں خوں کم تھا یا ابھی جنوں کم تھا دشت کے عوض کرتا ورنہ قصد گلشن کون اک نشاط آرائی اک سکون تنہائی ہجر یا وصال اچھا حل کرے یہ الجھن کون سلسلے محبت کے نام سے نہیں چلتے اپنی ذات جو تج دے شیخ کیا برہمن کون اک نئی لگن بخشے اک فقط تھکن بخشے مردم آزما نکلا رہنما کہ رہزن کون عشق بے خبر گزرے خیر و شر کے عقدوں…
Read Moreافضل ہزاروی ۔۔۔ اُڑتے اُڑتے شام ہوئی تو گھر لوٹے … अफ़ज़ल हज़ारवी
اُڑتے اُڑتے شام ہوئی تو گھر لوٹے روشنی جب تمام ہوئی تو گھر لوٹے رسوائی کا دیکھا خواب تو آنکھ کھلی عزت جب نیلام ہوئی تو گھر لوٹے دھیرے دھیرے یاد آیا گھر کا رستہ دھیرے دھیرے شام ہوئی تو گھر لوٹے نام کمانے گھر سے نکلے تھے لیکن قسمت جب ناکام ہوئی تو گھر لوٹے سوچا تھا بِک جائیں گے ہم بھی افضل ہستی جب بے دام ہوئی تو گھر لوٹے ۔۔۔ حیرت کے امکان بناتا رہتا ہوں کچھ منظر ویران بناتا رہتا ہوں کوئی تو ان میں پھول…
Read Moreگوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ ہاں کاہش فضول کا حاصل بھی کچھ نہیں ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
ہاں کاہش فضول کا حاصل بھی کچھ نہیں لیکن حیات بے خلش دل بھی کچھ نہیں اب سوچ لو قدم ہیں زیاں گاہ شوق میں کہنا نہ پھر کہ جذبۂ کامل بھی کچھ نہیں گہرا سکوت چاپ کی آواز بازگشت رہ میں بھی کچھ نہ تھا سر منزل بھی کچھ نہیں جز حرص منفعت تہ دریا بھی کچھ نہ تھا جز وہم عافیت لب ساحل بھی کچھ نہیں سب جذب آرزو کی تمازت کا کھیل ہے دل سرد ہو تو گرمئ محفل بھی کچھ نہیں بدلے تو اک نمونۂ اعراض…
Read Moreگوہر ہوشیار پوری ۔۔۔ کیسے ڈوبا ڈوب گیا ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
کیسے ڈوبا ڈوب گیا ڈوبنے والا ڈوب گیا کیسی نیک کمائی تھی! پیسہ پیسہ ڈوب گیا ناؤ نہ ڈوبی دریا میں ناؤ میں دریا ڈوب گیا لوگ کنارے آن لگے اور کنارہ ڈوب گیا بارش اس نے بھیجی تھی شہر ہمارا ڈوب گیا ساری رات بتا ڈالی تارہ تارہ ڈوب گیا گوہر پورا خواب سنا پانی میں کیا ڈوب گیا
Read Moreریاض ندیم نیازی ۔۔۔ درد و غم کا علاج کیسے ہو
درد و غم کا علاج کیسے ہو چاہتوں کا رواج کیسے ہو کل تو جو حال بھی تمھارا تھا یہ بتاؤ کہ آج کیسے ہو فرصتِ زندگی نہیں ہم کو پھر بھَلا کام کاج کیسے ہو یہ بھی حِصہ ہے زندگانی کا ختم آخر سماج کیسے ہو اِتنی مہنگائی میں بھَلا سوچو گھر میں وافر اَناج کیسے ہو ہم کو عزّت ندیم ہے درکار سر پہ شہرت کا تاج کیسے ہو
Read Moreراحت سرحدی ۔۔۔ دل بھی چاہے تو نظر کیسے لڑے
دل بھی چاہے تو نظر کیسے لڑے ہو گئے ہیں آپ کے بچے بڑے چوم کر آنکھوں سے وہ دل نے چنے پھول ان ہونٹوں سے جتنے بھی جھڑے اور کتنی عمر روندے جائیں گے ہم گیاہِ راہ کی صورت پڑے سچ کے سیلِ تند کے آگے کبھی جھوٹ کے پُل رہ نہیں سکتے کھڑے بات بھی محسوس ہوتی ہے کبھی جیسے سینے میں کوئی نیزہ گڑے اس نے بھی دیکھا بہت ہے سرد گرم امتحاں ہم نے بھی کاٹے ہیں کڑے تیرگی کے روبرو بن کر چراغ تا کجا…
Read Moreعزیز فیصل ۔۔۔ کیا کثافت ہے یہ کثافتِ عشق – अज़ीज़ फ़ैसल
کیا کثافت ہے یہ کثافتِ عشق مار دیتی ہے سب لطافتِ عشق آئنے میں بھی خود کو دیکھتے ہو تم نہیں جانتے ثقافتِ عشق دھڑکنوں کا سرور بڑھتا ہے دل میں آئے اگر اضافتِ عشق دشت میں رہ کے سب پہ کھلتا ہے چلتی رہتی ہے کیوں خلافتِ عشق حسن شہ سرخیوں میں رہتا تھا قیس کرتا تھا جب صحافتِ عشق کور چشموں کو عمر بھر فیصل نظر آتی نہیں شرافتِ عشق
Read More