کیا کثافت ہے یہ کثافتِ عشق
مار دیتی ہے سب لطافتِ عشق
آئنے میں بھی خود کو دیکھتے ہو
تم نہیں جانتے ثقافتِ عشق
دھڑکنوں کا سرور بڑھتا ہے
دل میں آئے اگر اضافتِ عشق
دشت میں رہ کے سب پہ کھلتا ہے
چلتی رہتی ہے کیوں خلافتِ عشق
حسن شہ سرخیوں میں رہتا تھا
قیس کرتا تھا جب صحافتِ عشق
کور چشموں کو عمر بھر فیصل
نظر آتی نہیں شرافتِ عشق
