عزیز فیصل ۔۔۔ کیا کثافت ہے یہ کثافتِ عشق – अज़ीज़ फ़ैसल

کیا کثافت ہے یہ کثافتِ عشق مار دیتی ہے سب لطافتِ عشق آئنے میں بھی خود کو دیکھتے ہو تم نہیں جانتے ثقافتِ عشق دھڑکنوں کا سرور بڑھتا ہے دل میں آئے اگر اضافتِ عشق دشت میں رہ کے سب پہ کھلتا ہے چلتی رہتی ہے کیوں خلافتِ عشق حسن شہ سرخیوں میں رہتا تھا قیس کرتا تھا جب صحافتِ عشق کور چشموں کو عمر بھر فیصل نظر آتی نہیں شرافتِ عشق

Read More

عزیز فیصل ۔۔۔ دل کو دل سے رہ ہوتی ہے (ماہنامہ بیاض لاہور مارچ 2022 )

دل کو دل سے رہ ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اک دن اس نے فون پہ پوچھا: ’’کیسے ہو؟‘‘ میں ششدر حیران ہوا تھا زندہ کیا امکان ہوا تھا؟ وہ پھر بولی: ’’میں نے پوچھا کیسے ہو کیا ویسے کے ویسے ہو؟‘‘ لفظ کہاں تھے جو دل کے ارمانوں کی تصویر بناتے اور بتاتے تنہائی کے اک گھنٹے میں کتنے سال سما جاتے ہیں روح میں کیسے درد پرانے در آتے ہیں وہ پھر بولی: ’’ کیسے ہو بولو، فیصل !اور بتاؤ دس برسوں کا لمبا عرصہ کیسے گزرا ، کیونکر کاٹا‘‘…

Read More