زبیر خیالی ۔۔۔ تِیرگی بے لباس ، کمرے میں

تِیرگی بے لباس ، کمرے میں بن گئی ہے ہِراس کمرے میں قید احساسِ گل نہیں ہوتا پھیل جاتی ہے باس کمرے میں جو مُقَفَّل رہا یہ دَر یوں ہی گھر بنا لے گی گھاس کمرے میں نِصف شب ، خواب میں خیال ترا آگیا بے قیاس کمرے میں اِک دریچے سے جِھلملاتا ہے روشنی کا نِکاس کمرے میں لب تھے محروم لب کشائی سے جسم تھا بے حواس کمرے میں سانس تازہ ہَوا کا طالِب تھا حَبس آیا نہ راس کمرے میں گَرد آلود ہیں کتابیں سب مَر رہی…

Read More

زبیر خیالی ۔۔۔ حیات ایسے گزاری جارہی ہے … ज़ुबैर ख़याली

حیات ایسے گزاری جارہی ہے کہ یہ بیکار ساری جا رہی ہے مکانِ دل ہے گَرد آلود کتنا مگر صورت سنواری جارہی ہے اِرادے خودکشی کرنے لگے ہیں تمنا دل میں ماری جارہی ہے بڑا پرسوز عالم ہے وہاں کا جہاں تک آہ و زاری جا رہی ہے الٰہی! عدل کی میزانِ برحق زمیں پر کب اتاری جا رہی ہے زمانہ معترف جس کا کبھی تھا وہ رسمِ دوست داری جا رہی ہے اِسی رستے پہ منزل ہے خیالی جدھر اپنی سواری جا رہی ہے

Read More

زبیر خیالی ۔۔۔ وہ اضطراب کا منظر عجیب لگتا ہے (ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023 )

وہ اضطراب کا منظر عجیب لگتا ہے پرندہ قید کے اندر عجیب لگتا ہے اگلنے لگتا ہے ساحل پہ شام کو سب کچھ اسی ادا پہ سمندر عجیب لگتا ہے عجب نہیں جو کفایت شعار ہو مفلس بخیل ہو جو تونگر عجیب لگتا ہے جنوں پہ عقل کو دیتا ہے جب کوئی سبقت وہ فہمِ خام کا پیکر عجیب لگتا ہے نہیں ہے آپ سے میرا موازنہ کوئی بشر خدا کے برابر عجیب لگتا ہے ذرا بھی تجھ سے توقع نہیں مجھے جس کی وہ لفظ تیری زباں پر عجیب…

Read More