ادا جعفری

یہ شعر ادا جعفری کی گہری داخلی بصیرت، نسائی وقار، اور شعری نفاست کا آئینہ دار ہے۔ شاعرہ نے یہاں محبت کے غیر اعلانیہ اظہار اور باطن کے آشوب کو چشمِ نم یعنی اشک آلود آنکھ کے استعارے میں سمو کر دل کی نرمی کو وقار کا پیرایہ عطا کیا ہے۔

Read More

راحت اندوری

شاعر نے خود کو اس درجہ تنہا، سرد اور بےحس پایا کہ وجود ہی کمبل بن گیا، جذبات کی گرمی مفقود ہو چکی۔
یہ مصرع ایک ایسے باطن کی ترجمانی ہے جہاں رضا، راحت اور رفاقت سب خواب ہو چکے ہوں۔

Read More