یہ شعر ادا جعفری کی گہری داخلی بصیرت، نسائی وقار، اور شعری نفاست کا آئینہ دار ہے۔ شاعرہ نے یہاں محبت کے غیر اعلانیہ اظہار اور باطن کے آشوب کو چشمِ نم یعنی اشک آلود آنکھ کے استعارے میں سمو کر دل کی نرمی کو وقار کا پیرایہ عطا کیا ہے۔
Read MoreCategory: بیت بازی
راحت اندوری
شاعر نے خود کو اس درجہ تنہا، سرد اور بےحس پایا کہ وجود ہی کمبل بن گیا، جذبات کی گرمی مفقود ہو چکی۔
یہ مصرع ایک ایسے باطن کی ترجمانی ہے جہاں رضا، راحت اور رفاقت سب خواب ہو چکے ہوں۔
نوح ناروی
اُن سے ہم کہہ دیں گے اپنے دل کی بات اور کیا ہو گا نہ مانی جائے گی
Read Moreجاں نثار اختر
اُن سے یہی کہہ آئیں کہ اب ہم نہ ملیں گے آخر کوئی تقریبِ ملاقات بنے گی
Read Moreاحمد فراز
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
Read Moreانور شعور
سنے وہ، اور پھر کر لے یقیں بھی بڑی ترکیب سے سچ بولتا ہوں
Read Moreاحمد مشتاق
عجب کیا اس قرینے سے کوئی صورت نکل آئے تری باتوں کو خوابوں سے ملا کر دیکھ لیتا ہوں
Read Moreشکیل بدایونی
نہ جانے کس کے سہارے رکا ہوا ہے فلک ہمیں تو فرشِ زمیں پر کوئی ستوں نہ ملا
Read Moreفیض احمد فیض
وہ مرے ہو کے بھی مرے نہ ہوئے ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا
Read Moreغلام حسین ساجد
اس بار جب اجل سے مرا سامنا ہوا کشتی سے خواب، ہاتھ سے پتوار گر پڑے
Read More