ظفر اقبال

جو کہیں باہر ہے اس کو کھوجتے ہیں جان و دل میں جو چھپا بیٹھا ہے اندر اس کو باہر ڈھونڈتے ہیں

Read More

ظفر اقبال

اگر کافی نہیں جاں سے گزرنا ہمارے پاس کرتب اور بھی ہیں

Read More

ظفر اقبال

کچھ اعتبار کسی طرح کا نہیں باقی یقیں کرتا ہوں جس کا ، گماں نکلتا ہے

Read More

ظفر اقبال

آخر کو اس غبار نے غائب کیا ہمیں کس کاروبارِ خاک پہ اپنا اجارہ ہے

Read More

ظفر اقبال

میرے حصے کی ملاوٹ یہی کیا کم ہے کہ میں شور میں شعر ملانے کے لئے زندہ ہوں

Read More

ظفر اقبال

شہر سارا ہی مرے گھر سے ترے گھر تک ہے ایک دیوار نہیں ہے جسے میں ڈھا سکتا

Read More