جو برسوں میں ہوا کرتا تھا پہلے یہاں برسوں سے اکثر ہورہا ہے
Read MoreCategory: بیت بازی
ظفر اقبال
صاف شفاف بھی پانی کی طرح نیتِ دل دیکھنے والے نے دیکھا اسے گدلا کرکے
Read Moreظفر اقبال
فرق اتنا نہ سہی عشق و ہوس میں لیکن میں تو مرجاؤں ترا رنگ بھی میلا کرکے
Read Moreظفر اقبال
چلو ، کچھ اس کی توجہ ادھر ہوئی تو سہی وہ اب کی بار بہت بدگماں دکھائی دیا
Read Moreظفر اقبال
اس شوخ پہ مرنا تو بڑی بات ہے لیکن کہتے ہیں کہ اس عمر میں اچھا نہیں لگتا
Read Moreظفر اقبال
اے ظفر سچ پوچھئے تو کامیابی عشق میں سربسر جتنی بھی ہے ناکام رہ جانے میں ہے
Read Moreظفر اقبال
خیرات کا مجھے کچھ لالچ نہیں ظفرؔ میں اس گلی میں صرف صدا کرنے آیاہوں
Read Moreظفر اقبال
کچھ نہ کچھ آثار رہ جاتے ہیں اُس کے جابجا وہ یہاں سے جائے بھی تواِس قدر جاتا نہیں
Read Moreظفر اقبال
خواب سا آنکھوں میں رکھ کر اک تلاشِ رایگاں کا جو کہیں ہوتا نہیں ہے اس کو اکثر ڈھونڈتے ہیں
Read Moreظفر اقبال
مجھ سا بزدل جائے گا بزمِ عدو میں کیا ظفرؔ میں تو مدت ہوگئی اپنے بھی گھر جاتا نہیں
Read More