جو بڑھے حدِ طریقت سے وہ تھک جائیں گے کفر و ایماں کے دو راہے پہ بھٹک جائیں گے
Read MoreTag: شاعر
ابراہیم اشک
بس ایک بار ہی توڑا جہاں نے عہدِ وفا کسی سے ہم نے پھر عہدِ وفا کیا ہی نہیں
Read Moreابراہیم اشک
نہ دل میں کوئی غم رہے نہ میری آنکھ نم رہے ہر ایک درد کو مٹا شراب لا شراب دے
Read Moreابراہیم اشک
تھی حوصلے کی بات زمانے میں زندگی قدموں کا فاصلہ بھی یہاں ایک جست تھا
Read Moreابراہیم اشک
خود اپنے آپ سے لینا تھا انتقام مجھے میں اپنے ہاتھ کے پتھر سے سنگسار ہوا
Read Moreابراہیم اشک
مجھے نہ دیکھو مرے جسم کا دھواں دیکھو جلا ہے کیسے یہ آباد سا مکاں دیکھو
Read Moreصفی لکھنوی
وہ عالم ہے کہ منہ پھیرے ہوۓ عالم نکلتا ہے شبِ فرقت کے غم جھیلے ہوؤں کا دم نکلتا ہے
Read Moreضیا شادانی مرادآبادی … میں بک جاتا مجھے انکار کب تھا
میں بک جاتا مجھے انکار کب تھا یہاں پر مصر کا بازار کب تھا ملاقاتیں بھی رسماً ہو رہی تھیں دلوں میں جذبۂ ایثار کب تھا میں اس کو موت سے بھی چھین لاتا وہ جینے کے لئے تیار کب تھا اگر کچھ حوصلہ ہوتا تو چلتے وفا کا راستہ دشوار کب تھا ضیا میں سارے بندھن توڑ دیتا تمہارے واسطے انکار کب تھا
Read Moreضیا شادانی مرادآبادی … غم جو بکھرے تو کائنات ہوئے
غم جو بکھرے تو کائنات ہوئے اور سمٹے تو میری ذات ہوئے ہم سے ہی عرض مدعا نہ ہوا جب وہ مائل بہ التفات ہوئے مدتوں سے دعا سلام نہیں مدتیں ہو گئی ہیں بات ہوئے جو بھی گزری گزر گئی ہم پر رونما پھر نہ حادثات ہوئے ہم نے پائی وفا کی داد ضیا جب بھی ماضی کے واقعات ہوئے
Read Moreحسن اکبر کمال … کیا گماں تھا کہ نہ ہوگا کوئی ہمسر اپنا
کیا گماں تھا کہ نہ ہوگا کوئی ہمسر اپنا دن ڈھلے سایہ مقابل ہوا بڑھ کر اپنا گھر سے نالاں تھے مگر دیکھی ہے دنیا ہم نے ہے اگر کوئی اماں گاہ تو بس گھر اپنا درد یہ کیسا شرر بن کے اٹھا پہلو میں ہم تو یوں خوش تھے کہ دل کر لیا پتھر اپنا رات بھر کوئی نہ سوئے تو سنے شور فغاں چاند کو درد سناتا ہے سمندر اپنا دکھ اٹھائے تو بہت رنگ خود اپنے دیکھے کم قیامت سے نہ تھا جو بھی تھا منظر اپنا…
Read More