ضیا شادانی مرادآبادی … میں بک جاتا مجھے انکار کب تھا

میں بک جاتا مجھے انکار کب تھا یہاں پر مصر کا بازار کب تھا ملاقاتیں بھی رسماً ہو رہی تھیں دلوں میں جذبۂ ایثار کب تھا میں اس کو موت سے بھی چھین لاتا وہ جینے کے لئے تیار کب تھا اگر کچھ حوصلہ ہوتا تو چلتے وفا کا راستہ دشوار کب تھا ضیا میں سارے بندھن توڑ دیتا تمہارے واسطے انکار کب تھا

Read More

ضیا شادانی مرادآبادی … غم جو بکھرے تو کائنات ہوئے

غم جو بکھرے تو کائنات ہوئے اور سمٹے تو میری ذات ہوئے ہم سے ہی عرض مدعا نہ ہوا جب وہ مائل بہ التفات ہوئے مدتوں سے دعا سلام نہیں مدتیں ہو گئی ہیں بات ہوئے جو بھی گزری گزر گئی ہم پر رونما پھر نہ حادثات ہوئے ہم نے پائی وفا کی داد ضیا جب بھی ماضی کے واقعات ہوئے

Read More

حسن اکبر کمال … کیا گماں تھا کہ نہ ہوگا کوئی ہمسر اپنا

کیا گماں تھا کہ نہ ہوگا کوئی ہمسر اپنا دن ڈھلے سایہ مقابل ہوا بڑھ کر اپنا گھر سے نالاں تھے مگر دیکھی ہے دنیا ہم  نے ہے اگر کوئی اماں گاہ تو بس گھر اپنا درد یہ کیسا شرر بن کے اٹھا پہلو میں ہم تو یوں خوش تھے کہ دل کر لیا پتھر اپنا رات بھر کوئی نہ سوئے تو سنے شور فغاں چاند کو درد سناتا ہے سمندر اپنا دکھ اٹھائے تو بہت رنگ خود اپنے دیکھے کم قیامت سے نہ تھا جو بھی تھا منظر اپنا…

Read More