ایوب رومانی … رہ گزاروں میں روشنی کے لیے

رہ گزاروں میں روشنی کے لیے لے کے نکلے ہیں آندھیوں میں دیے ذائقہ تلخ ہے محبت کا آدمی زہر غم پیے نہ پیے دل میں یادوں کے رت جگے جیسے ٹمٹماتے ہوں مرگھٹوں کے دیے دل میں طوفان ہیں چھپائے ہوئے ہم تو بیٹھے ہیں اپنے ہونٹ سیے کوئی تجھ سا نظر نہیں آتا دل نے سو رنگ انتخاب کیے در بدر شہر میں پھرے یارو اپنے کاندھے پہ اپنی لاش لیے دل کی دل میں رہیں تمنائیں آنکھوں آنکھوں میں کتنے اشک پیے جان پیاری ہمیں بھی تھی…

Read More

سعود عثمانی۔۔۔ نکالتے رہے یہ لوگ خامیاں مجھ میں

نکالتے رہے یہ لوگ خامیاں مجھ میں اور اس کے بعد بچیں صرف خوبیاں مجھ میں میں ایک عمر یہاں جس مکاں میں رہتا رہا اب ایک عمر سے رہتاہے وہ مکاں مجھ میں سنا نہیں تھا کہ پت جھڑ بھی سبز ہوتی ہو مگر یہ پھول کھلا اور ناگہاں مجھ میں طلوع ہوتا ہے سورج غروب ہوتے ہوئے یہ رات جلنے لگی ہے یہاں وہاں مجھ میں سفر سے آتا ہوا ‘ بکریاں چراتا ہوا سعود کوئی گڈریا ہے نغمہ خواں مجھ میں

Read More

حسن اکبر کمال … ہنر جو طالبِ زر ہو ہنر نہیں رہتا

ہنر جو طالبِ زر ہو ہنر نہیں رہتا محل سرا میں کوئی کوزہ گر نہیں رہتا بچھڑتے وقت کسی سے ہمیں بھی تھا یہ گماں کہ زخم کیسا بھی ہو عمر بھر نہیں رہتا میں اپنے حق کے سوا مانگتا اگر کچھ اور تو میرے حرف دعا میں اثر نہیں رہتا کچھ اور بھی گزر اوقات کے وسیلے ہیں گدا خزینۂ کشکول پر نہیں رہتا وہ کون ہے جو مسافر کے ساتھ چلتا ہے خیالِ یار بھی جب ہم سفر نہیں رہتا جسے بناتے سجاتے ہیں جس میں رہتے ہیں…

Read More

سرور بارہ بنکوی … تو کیا یہ طے ہے کہ اب عمر بھر نہیں ملنا

تو کیا یہ طے ہے کہ اب عمر بھر نہیں ملنا تو پھر یہ عمر بھی کیوں تم سے گر نہیں ملنا چلو زمانے کی خاطر یہ جبر بھی سہہ لیں کہ اب ملے تو کبھی ٹوٹ کر نہیں ملنا رہ وفا کے مسافر کو کون سمجھائے کہ اس سفر میں کوئی ہم سفر نہیں ملنا جدا تو جب بھی ہوئے دل کو یوں لگا جیسے کہ اب گئے تو کبھی لوٹ کر نہیں ملنا

Read More

عدیم ہاشمی ۔۔۔ مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے

مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے زباں نے جسم کا کچھ زہر تو اگل ڈالا بہت سکون ملا تلخیٔ نوا سے مجھے رچا ہوا ہے بدن میں ابھی سرور گناہ ابھی تو خوف نہیں آئے گا سزا سے مجھے میں خاک سے ہوں مجھے خاک جذب کر لے گی اگرچہ سانس ملے عمر بھر ہوا سے مجھے غذا اسی میں مری میں اسی زمیں کی غذا صدا پھر آتی ہے کیوں پردۂ خلا سے مجھے میں جی رہا ہوں…

Read More

صفی لکھنوی … دیدہ اشکبار کیا کہنا

دیدہ اشکبار کیا کہنا واہ ابرِ بہار کیا کہنا حال جنت کا سن چکے واعظ اب اسے بار بار کیا کہنا اُڑ کے پہنچا کسی کے دامن تک آج میرا غبار کیا کہنا درد نے خوب دل کا ساتھ دیا واہ رے غم گسار کیا کہنا دل سے یادِ وطن صفی نہ گئی اے غریب الدیار کیا کہنا

Read More