شاہین عباس

میں سیڑھیاں چڑھتا چلا جاتا ہوں کہ جالوں اوپر کی وہ تنہائی ، وہ اوپر کی اداسی

Read More

شاہین عباس

حاشیے کے دونوں جانب نام ہیں ، اور صرف نام یہ جو خالی ہے جگہ ، یہ بھی کسی کا نام ہے

Read More

شاہین عباس

عجب کیا وقت کا یہ آخری پھیرا ہو یاں پر گلی کوچے اب اِس رہ گیر سے تنگ آ گئے ہیں

Read More

شاہین عباس

ہم تھے کہ رات دن کے داغ ، جیسے صدی صدی کے باغ یعنی گزرتے وقت کا ، ہم پہ بہت اثر ہوا

Read More

شاہین عباس

کبھی حیراں، کبھی ویراں ، تو کبھی شاد آباد میں خلل ڈالتا آیا ہوں جہاں میں ایسا

Read More

شاہین عباس

بازا ر میں اجنبی ہوں یعنی پھولوں کی دکان دیکھتا ہو ں

Read More

شاہین عباس

سننے والوں میں اِتنا پردہ ہے کوئی سنتا نہیں کسی کا شور

Read More

شاہین عباس

 یوں جو دروازے بج رہے ہیں یہاں گھر سے اُٹھّاہے بے گھری کا شور

Read More

شاہین عباس

بھرتے بھرتے بھرے گا وقت کے ساتھ دامنِ داستان ہے سائیں

Read More

شاہین عباس

آخر در و دیوار کے آنسو نکل آئے ہم کو نظر آ تی ہی نہ تھی گھر کی اداسی

Read More