یہ جو لبوں پہ ماہِ منور کی بات ہے دراصل میرے اونچے مقدر کی بات ہے آخر کو بات شافعِ محشر پہ آئے گی مانا کہ پہلے داورِ محشر کی بات ہے اس نے کہا رسولِ مکرم کا ذکر ہے میں نے کہا کہ ہادی و رہبر کی بات ہے ساحل کی ریت چھانتے لوگوں کو کیا خبر یہ بحرِ بیکراں کے شناور کی بات ہے
Read MoreTag: افتخار شاہد کی شاعری
افتخار شاہد ۔۔۔ اب تو سنتا ہی نہیں یار دہائی دل کی
اب تو سنتا ہی نہیں یار دہائی دل کی پہلے کہتا تھا کہ ممکن ہے رہائی دل کی مرے ہونٹوں کے دمکتے ہوئے چھالے دیکھو میں نے ہونٹوں میں ذرا دیر، دبائی دل کی اب وہ خوابوں پہ بھی اپنا ہی تسلط چاہے جس کو بخشی تھی کبھی میں نے خدائی دل کی اپنے جذبات کو شعروں میں پرو دیتا ہوں خرچ کرتا ہوں میں ایسے بھی کمائی دل کی ورنہ اس شخص کی آنکھیں بھی تو جا سکتی تھیں میں نے حالت ہی نہیں اس کو دکھائی دل کی…
Read Moreافتخار شاہد ۔۔۔ رعنائیِ خیال سے آگے کی چیز ہے
رعنائیِ خیال سے آگے کی چیز ہے شعر و سخن کمال سے آگے کی چیز ہے اے دوست تیرے عارض و رخسار کا یہ رنگ یہ لال رنگ ، لال سے آگے کی چیز ہے یہ زخم تیرے تیر یا تلوار کا نہیں یہ زخم اندمال سے آگے کی چیز ہے اک دن کسی صیّاد سے یہ صید نے کہا زلفوں کا جال ، جال سے آگے کی چیز ہے میں حسنِ لازوال بھی کیسے کہوں تجھے تْو حسنِ لازوال سے آگے کی چیز ہے دل کی دھمال اور ہی…
Read Moreافتخار شاہد ۔۔۔ دو غزلیں (ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023 )
ہم لوگ ندیدے ہیں شجر کاٹ رہے ہیں جو صابر و شاکر ہیں ثمر کاٹ رہے ہیں یوں دوسری چاہت کا ارادہ تو نہیں تھا ہم پہلی محبت کا اثر کاٹ رہے ہیں ہم کیسے بتائیں کہ ترے ہجر کا عرصہ کٹتا بھی نہیں ہم سے مگر کاٹ رہے ہیں پہلے تو یہ در بھی اسی دیوار سے نکلے اب یوں ہے کہ دیوار کو در کاٹ رہے ہیں اے کاش کوئی آ کے ہمیں یہ تو بتائے ہم ڈوب رہے ہیں کہ بھنور کاٹ رہے ہیں اک عمر سے…
Read More