اقبال سروبہ ۔۔۔ جو بھی پتھر سے جا ملا ہو گا

جو بھی پتھر سے جا ملا ہو گا زخم گہرا اُسے لگا ہو گا لب کشائی کا شوق تھا جس کو اُس نے خاموش کر دیا ہو گا اِس لیے بار بار چونکتا ہے میرا دشمن نیا نیا ہو گا سب کی آسان زندگی ہو گی کون میری طرح جیا ہو گا جانے والے نے مُڑ کے دیکھا مجھے کچھ نہ کچھ وہ بھی سوچتا ہو گا میں بھی گر جاؤں گا تھکاوٹ سے وقت بھی ہوش کھو چکا ہو گا جس نے اقبال تجھ کو چھوڑ دیا کب کسی…

Read More