آفتاب محمود شمس ۔۔۔ کسی کی آنکھ میں رکھ دے مگر چھپا سارے

کسی کی آنکھ میں رکھ دے مگر چھپا سارے بکھر نہ جائیں کہیں خواب خوش نما سارے ’’میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں‘‘ جو میرے سوگ میں کرتے ہیں اب دعا سارے یہی تو شہر کا منصف تھا اک زمانے میں یہ دے رہے ہیں سڑک پر جسے سزا سارے یہ کس کے ہجر میں رنجیدہ ہیں مہکتے گلاب کہ پھولدانوں میں لگتے ہیں یوں خفا سارے سفید چہرے لیے لوگ جی رہے ہیں شمس چھپا کے داغ جسامت کے بدنما سارے

Read More

آفتاب محمود شمس ۔۔۔ کبھی تو پھول کبھی خار لکھے جاتے ہیں

کبھی تو پھول کبھی خار لکھے جاتے ہیں کہانیوں میں جو کردار لکھے جاتے ہیں جو تیرے سامنے چاہت کی بات کر جائیں دل و دماغ سے بیمار لکھے جاتے ہیں جفا کے شہر کی پریاں چڑیل جیسی ، تو مکان کوچے پراسرار لکھے جاتے ہیں وفا کی بات بھی جن کی زباں کو آتی نہیں یہاں پہ جنگ کے سالار لکھے جاتے ہیں گلاب سوگ ہوا کرتے ہیں لحد پر شمس سجیں جو بالوں میں ،سنگار لکھے جاتے ہیں

Read More