سلام رَوا ہوئی نہ گُلِ ظلم پر زمینِ حسین سو سرخ ہونا تھی اک روز آستینِ حسین گئے وہ دن یہاں رہتے تھے دوستانِ علی کہ اب تو کوفہ ہے شہرِ مخالفینِ حسین میانِ مکّہ و کوفہ عجیب نسبت ہے وہ مُنکرینِ محمد ، یہ مُنکرینِ حسین کبھی نہ ربط رکھا قاتلوں کے مَسلَک سے ہمارے واسطے کافی ہے راہِ دینِ حسین میں مر بھی جاؤں ثنائے حسین کرتے ہوئے مرے قبیلے سے اُٹھیں گے ذاکرینِ حسین طواف چلتا رہا اور نماز ہوتی رہی پڑی تھی تَپتی ہوئی ریت پر…
Read More