کچھ اس لیے نہ بن سکے پہچان راستے ہم نے چنے تھے پیار کے انجان راستے منصف کو ذاتیات سے فرصت نہ مل سکی اہلِ جفا نے کر دیے ویران راستے بچھڑے تو پھر نہ مل سکے ایسے جدا ہوئے میں اور میرے شہر کے سنسان راستے رخصت کیا تو باپ نے بیٹے کو دی دعا مالک کرے سبھی ترے آسان راستے اذنِ سفر ملا تو منازل کی ٹھان لی پھر راستوں نے ہم کو کیے دان راستے اب تک ہیں مجھ کو یاد وہ گیسو، وہ سرخ لب وہ…
Read More