ممتاز راشد لاہوری ۔۔۔ بِھڑ گئے آخر کو بھڑکائے ہوئے

بِھڑ گئے آخر کو بھڑکائے ہوئے میرے دشمن کے وہ پُھسلائے ہوئے پھول قدموں میں ہیں ، برسائے ہوئے ہار گردن میں ہیں پہنائے ہوئے سب ہیں گرویدہ اُسی فانوس کے ہم ہیں جس جلوے کے بہکائے ہوئے سہمے سہمے پھر رہے ہیں بے نَوا کچھ غلط کاروں کے دھمکائے ہوئے کاش کھا لیتے وہ کھانا وقت پر دیکھتے ہیں اب جو للچائے ہوئے کچھ نہ کچھ بیتی ہے ان سے ناروا پھر رہے ہیں وہ جو بَولائے ہوئے کوئی واقف ہے نہ کوئی ہم زباں ہم عبث ہیں اس…

Read More