انور شعور ۔۔۔ اُف کرے دل اگر زبان سمیت

اُف کرے دل اگر زبان سمیت عرش ہِل جائے آسمان سمیت کوئی رہزن ہو آپ جیسا تو پیشِ خدمت ہے مال ، جان سمیت جب ہوئی اختصار کی درخواست ہم چلے آئے داستان سمیت مکتبِ زندگی میں آتی ہے ایک ایک آن امتحان سمیت قبر باقی نہ یاد ہی باقی نام تک مٹ گیا نشان سمیت دل سے جاتا نہیں وطن کا خیال گو ہم آئے ہیں خاندان سمیت میز بھی ہے یہیں مسہری بھی میرا دفتر ہے یہ مکان سمیت جرمِ الفت عیاں تھا چہرے سے جج نے لوٹا…

Read More