قطرہ قطرہ ۔۔۔ فہمیدہ ریاض

قطرہ قطرہ ۔۔۔۔۔۔ قطرہ قطرہ دل میں آنسو گرتے ہیں اک آنسو اُس شخص کا، جو بے گانہ ہے اک آنسو اُس نام کا ، جو ہم لے نہ سکے اک آنسو اُس دُعا کو جو پوری نہ ہوئی ایک فضول سی بات کہ جو بے سود کہی (آنسو میرا خواب ، میں جس سے گھبراؤں آنسو میری مراد، جسے میں بہلاؤں ) اک آنسو آس چہرے کا جو یاد رہے آنکھوں کے رستے جو دل میں اُتر جائے اک آنسو اُس ٹھہرے ٹھہرے لہجے کا اک آنسو اُس جھوٹ…

Read More

برف باری کی رُت ۔۔۔۔۔ فہمیدہ ریاض

برف باری کی رُت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہیں تو کہیں پر تمہارے لبوں نے مرے سرد ہونٹوں سے برفیلے ذرے چنے تھے اسی پیڑ کی چھال پر ہاتھ رکھ کر ہم اک دن کھڑے تھے یہیں برفباری میں ہم لڑکھڑاتے ہوئے جا رہے تھے مہک تازہ بوسوں کی سر میں سمائے ہم آغوشئِ جسم و جاں کے نشے میں گئی برفباری کی رُت اور پگھلتی ہوئی برف بھی بہہ گئی سب یہاں کچھ نہیں اب کہ ہر شے نئی ہے ہٹا کر ردا برف کی گھاس لہرا رہی ہے ہری پتیوں کی…

Read More