یہ جو لبوں پہ ماہِ منور کی بات ہے دراصل میرے اونچے مقدر کی بات ہے آخر کو بات شافعِ محشر پہ آئے گی مانا کہ پہلے داورِ محشر کی بات ہے اس نے کہا رسولِ مکرم کا ذکر ہے میں نے کہا کہ ہادی و رہبر کی بات ہے ساحل کی ریت چھانتے لوگوں کو کیا خبر یہ بحرِ بیکراں کے شناور کی بات ہے
Read MoreTag: Iftikhar Shahid's poetry
افتخار شاہد ۔۔۔ اب تو سنتا ہی نہیں یار دہائی دل کی
اب تو سنتا ہی نہیں یار دہائی دل کی پہلے کہتا تھا کہ ممکن ہے رہائی دل کی مرے ہونٹوں کے دمکتے ہوئے چھالے دیکھو میں نے ہونٹوں میں ذرا دیر، دبائی دل کی اب وہ خوابوں پہ بھی اپنا ہی تسلط چاہے جس کو بخشی تھی کبھی میں نے خدائی دل کی اپنے جذبات کو شعروں میں پرو دیتا ہوں خرچ کرتا ہوں میں ایسے بھی کمائی دل کی ورنہ اس شخص کی آنکھیں بھی تو جا سکتی تھیں میں نے حالت ہی نہیں اس کو دکھائی دل کی…
Read Moreافتخار شاہد ۔۔۔ رعنائیِ خیال سے آگے کی چیز ہے
رعنائیِ خیال سے آگے کی چیز ہے شعر و سخن کمال سے آگے کی چیز ہے اے دوست تیرے عارض و رخسار کا یہ رنگ یہ لال رنگ ، لال سے آگے کی چیز ہے یہ زخم تیرے تیر یا تلوار کا نہیں یہ زخم اندمال سے آگے کی چیز ہے اک دن کسی صیّاد سے یہ صید نے کہا زلفوں کا جال ، جال سے آگے کی چیز ہے میں حسنِ لازوال بھی کیسے کہوں تجھے تْو حسنِ لازوال سے آگے کی چیز ہے دل کی دھمال اور ہی…
Read More