یہ جو لبوں پہ ماہِ منور کی بات ہے دراصل میرے اونچے مقدر کی بات ہے آخر کو بات شافعِ محشر پہ آئے گی مانا کہ پہلے داورِ محشر کی بات ہے اس نے کہا رسولِ مکرم کا ذکر ہے میں نے کہا کہ ہادی و رہبر کی بات ہے ساحل کی ریت چھانتے لوگوں کو کیا خبر یہ بحرِ بیکراں کے شناور کی بات ہے
Read More