گم راہ بھی ہم کبھی رہے ہیں اس فخر میں کچھ عجب نشے ہیں ہم پر نہ چلے گا بس تمہارا ہم لوگ یہ جنگ لڑ چکے ہیں کب ظلم ہوا کے ختم ہوں گے پرَ کھول کے خاک ہو گئے ہیں ہر گام ہے مرحلوں کی منزل یک رنگ تمام راستے ہیں مرنے کے بھی ان گنت بہانے جینے کو بھی لاکھ مسئلے ہیں اک رو میں ، ہیں رہروانِ دنیا کچھ دیکھتے ہیں نہ سوچتے ہیں ہر آن‘ کچھ آہٹوں سی خوشبو ہر چاپ‘ گلاب سے کھلے ہیں…
Read MoreTag: Khalid Ahmad's writings
خالد احمد
بتوں کی طرح کھڑے تھے ہم اک دوراہے پر رخ اس نے پھیر لیا ، چشم تر گئے ہم بھی
Read Moreخالد احمد
یہ عہد ایک مسیحا نفس میں زندہ تھا رہا نہ وہ بھی سلامت ، بکھر گئے ہم بھی
Read Moreخالد احمد
زندگی کے دکھ ازل سے زندگی کے ساتھ ہیں لوگ فانی ہیں مگر لوگوں کے دکھ فانی نہیں
Read Moreخالد احمد
کوئی ستم نیا نہیں ، کوئی کرم نیا نہیں مرکزِ التفات بھی ، جاں ، ہدفِ خدنگ بھی
Read Moreخالد احمد
تنہائی سی تنہائی تھی ، کرتا بھی تو کیا میں سو ، شہر میں صحرا کی طرح پھیل گیا میں
Read Moreخالد احمد
تہِ آسمانِ دنیا ، سرِ خاک دانِ دُنیا مرے ساتھ ساتھ رہنا ، مجھے سائے سائے رکھنا
Read More