ہم تھے کہ رات دن کے داغ ، جیسے صدی صدی کے باغ یعنی گزرتے وقت کا ، ہم پہ بہت اثر ہوا
Read MoreTag: Shaheen abbas’s poetry
شاہین عباس
کبھی حیراں، کبھی ویراں ، تو کبھی شاد آباد میں خلل ڈالتا آیا ہوں جہاں میں ایسا
Read Moreشاہین عباس
بازا ر میں اجنبی ہوں یعنی پھولوں کی دکان دیکھتا ہو ں
Read Moreشاہین عباس
سننے والوں میں اِتنا پردہ ہے کوئی سنتا نہیں کسی کا شور
Read Moreشاہین عباس
یوں جو دروازے بج رہے ہیں یہاں گھر سے اُٹھّاہے بے گھری کا شور
Read Moreشاہین عباس
خواب کو خوش نما بناتے ہوئے رات گزری دِیا بناتے ہوئے
Read Moreشاہین عباس
بھرتے بھرتے بھرے گا وقت کے ساتھ دامنِ داستان ہے سائیں
Read Moreشاہین عباس
آخر در و دیوار کے آنسو نکل آئے ہم کو نظر آ تی ہی نہ تھی گھر کی اداسی
Read Moreشاہین عباس
شہر کے شہر کر دیے مسمار اپنا خلوت کدہ بناتے ہوئے
Read Moreشاہین عباس
پانی پہ مذاق بن گئے ہم کشتی میں نہ تھی جگہ ہماری
Read More