خاک پر خاک اُڑا ئی ہے ، محبت کی ہے شہر کو شہر کی تعمیر سے پہچانا ہے
Read MoreTag: Shaheen abbas’s poetry
شاہین عباس
گھر کہیں بھی نہیں ، کوئی بھی نہیں سب گلی کا گمان ہے سائیں
Read Moreشاہین عباس
سننے والوں میں اِتنا پردہ ہے کوئی سنتا نہیں کسی کا شور
Read Moreشاہین عباس
ایک شکن وصال کی ، ایک شکن فراق کی سلوٹیں پڑ گئیں ہیں دو ، جامۂ دستیاب میں
Read Moreشاہین عباس
ایک لکیر شام کی، کہتی تھی درمیاں کی بات خلقِ خدا کا ایک دن، باقی ہیں سب خدا کے دن
Read Moreشاہین عباس
تیرے ہاتھوں جل اُٹھے ہم، تیرے ہاتھوں جل بجھے ہوتے ہوتے آگ اور پانی کا اندازہ ہو ا
Read Moreشاہین عباس
اوپر جو پرند گا رہا ہے نیچے کا مذاق اڑا رہا ہے
Read Moreشاہین عباس
یہ وقت کا خاص آدمی تھا بے وقت جو گھر کو جا رہا ہے
Read Moreشاہین عباس
عمر بھر ہم نے فنا کے تجربے خو د پر کئے عمر بھر میں عالمِ فانی کا اندازہ ہوا
Read Moreشاہین عباس
شہر میں داخلے کی شرط ، جسم نہیں تھا ، روح تھی جسم کا جسم رکھ دیا ،سر سے کہیں اتار کر
Read More