عمر بھر کی چاہتوں کا گوشوارہ ایک تھا ہم کسی کے ایک تھے، کوئی ہمارا ایک تھا رنگ ، خدّ و خال، سائے اور اْجالے اب کُھلے تْو نہیں تھا جب یہاں منظر ہی سارا ایک تھا خوفِ ہم رنگی نے ہم کو دُور رکھا عمر بھر مِل نہ پائے ہم کبھی اپنا ستارا ایک تھا اُس کی آنکھوں میں جو ڈُوبے پھر نہ پار اُترے کہیں ایسا دریا تھا وہاں جس کا کنارا ایک تھا ہر کسی کے واسطے تو جاں ہتھیلی پر نہیں جس کی خاطر رایگانی تھی…
Read More