شکیل جاذب ۔۔۔ عمر بھر کی چاہتوں کا گوشوارہ ایک تھا

عمر بھر کی چاہتوں کا گوشوارہ ایک تھا ہم کسی کے ایک تھے، کوئی ہمارا ایک تھا رنگ ، خدّ و خال، سائے اور اْجالے اب کُھلے تْو نہیں تھا جب یہاں منظر ہی سارا ایک تھا خوفِ ہم رنگی نے ہم کو دُور رکھا عمر بھر مِل نہ پائے ہم کبھی اپنا ستارا ایک تھا اُس کی آنکھوں میں جو ڈُوبے پھر نہ پار اُترے کہیں ایسا دریا تھا وہاں جس کا کنارا ایک تھا ہر کسی کے واسطے تو جاں ہتھیلی پر نہیں جس کی خاطر رایگانی تھی…

Read More

شکیل جاذب ۔۔۔ کیسے دلِ بے تاب کا اظہار وہاں ہو

کیسے دلِ بے تاب کا اظہار وہاں ہو جس رشتۂ بے نام میں خاموشی زباں ہو کس کو ترے پہلو میں غمِ سود و زیاں ہو کیا کارِ محبت سے الگ کارِ جہاں ہو ہر روز نئے خواب ہیں بہکانے کو اس کے اے یادِ غمِ یار ،سرِ دل نگراں ہو صدقہ تری رعنائی پہ ہو گردِ مہ و سال ہر روز ترا حسن نئی دھج سے جواں ہو اب صرف تصور سے گزارا نہیں ممکن تم ہو تو مرے پاس مگر دوست کہاں ہو میں تیرے تکلم کا مزا…

Read More