سلام بحضور امامِ عالی مقام بس کُشتگانِ راہِ ابد گیر کر گئے دشتِ بلا کی خاک کو اکسیر کر گئے صدیوں سے جس کی ہمّتِ انساں تھی منتظر وہ کام حق کی راہ میں شبّیر کر گئے اک خیمۂ جمال کے بجھتے ہوئے چراغ راہِ وفا میں روشنی تحریر کر گئے عبّاس اپنے بازو کٹا کر لبِ فُرات باطل کے دستِ ظلم کو زنجیر کر گئے جو تیر کربلا میں چلے تھے حُسین پر دراصل مُصطفےٰ (ص) کا جگر چیر کر گئے آنکھوں میں اشک چاک گریباں سروں پہ خاک…
Read MoreTag: شکیل جاذب
شکیل جاذب ۔۔۔ عمر بھر کی چاہتوں کا گوشوارہ ایک تھا
عمر بھر کی چاہتوں کا گوشوارہ ایک تھا ہم کسی کے ایک تھے، کوئی ہمارا ایک تھا رنگ ، خدّ و خال، سائے اور اْجالے اب کُھلے تْو نہیں تھا جب یہاں منظر ہی سارا ایک تھا خوفِ ہم رنگی نے ہم کو دُور رکھا عمر بھر مِل نہ پائے ہم کبھی اپنا ستارا ایک تھا اُس کی آنکھوں میں جو ڈُوبے پھر نہ پار اُترے کہیں ایسا دریا تھا وہاں جس کا کنارا ایک تھا ہر کسی کے واسطے تو جاں ہتھیلی پر نہیں جس کی خاطر رایگانی تھی…
Read More