اگر میں ڈوب گیا تھا تو پھر سے اُبھرا کیوں بتا اے موجہء گرداب! یہ تماشا کیوں مجھے پتہ ہے ترے دل کی دھڑکنوں میں ہوں میں ورنہ دُکھ کی کڑی دوپہر میں جلتا کیوں رہِ طلب میں مسلسل تھکن سے خائف ہوں سکوں جو ہاتھ نہ آئے، سفر ہو لمبا کیوں یہ امتحاں تو نمودِ وفا کا جوہر تھا اُسے یقین جو ہوتا، مجھے رُلاتا کیوں یہ پائے زیست میں زنجیرِ بے یقینی کیا رکھا ہے ہم کو لبِ جو بھی اتنا تشنہ کیوں ابھی تو اگلے ہی زخموں…
Read More